ویب ڈیسک: واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے نزدیک پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے میں ملوث مشتبہ شخص کی شناخت 29 سالہ افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کے طور پر کرلی گئی ہے۔
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق ملزم نے فیرگیٹ ویسٹ میٹرو اسٹیشن کے قریب گشت پر مامور نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں پر اچانک فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں دونوں اہلکار شدید زخمی ہوئے۔ دونوں کا تعلق ویسٹ ورجینیا نیشنل گارڈ سے بتایا گیا ہے اور ان کی حالت تشویشناک ہے۔
پولیس کے مطابق حملہ ایک ہی شخص نے کیا جو بغیر کسی انتباہ کے اہلکاروں کے قریب آیا اور فائرنگ شروع کردی۔ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ لکنوال کے پاس ہتھیار میں صرف چار راؤنڈ تھے، تاہم پہلے ہی وار میں ایک خاتون گارڈ رکن زمین پر گر گئیں اور انہیں کم از کم دو گولیاں لگیں۔ بعد ازاں حملہ آور نے زخمی اہلکار کا اسلحہ چھین کر فائرنگ جاری رکھی اور دوسرے گارڈ رکن کو بھی نشانہ بنایا۔ موقع پر موجود تیسرے گارڈ اہلکار نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو قابو کر لیا۔
???? BREAKING: Rahmanullah Lakanwal, the Afghan terrorist who shot National Guardsmen, worked with the CIA as a member of a partner force in Kandahar, Afghanistan, per CIA Director Ratcliffe
— Nick Sortor (@nicksortor) November 27, 2025
Holy crap.
“The individual—and so many others—should have NEVER been allowed to come… pic.twitter.com/Yjp5Dkb8gb
حکام کے مطابق رحمان اللہ لکنوال اسپتال میں زیرِ علاج ہے اور تحقیقات میں تعاون نہیں کر رہا۔
افغان پسِ منظر سے متعلق دعوے
میڈیا پروفیشنل اور افغان امور کے ماہر ریحان الافغانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا ہے کہ رحمان اللہ نے ماضی میں ’’قندھار اسٹرائیک فورس‘‘ نامی ایک مشترکہ امریکی–افغان بٹالین میں خدمات انجام دی تھیں۔ ان کے مطابق افغانستان سے امریکی انخلا سے قبل لکنوال اُن افغان اہلکاروں کے گروپ میں شامل تھا جنہیں امریکی تعاون کے پروگرام کے تحت واشنگٹن منتقل کیا گیا۔
امریکا میں داخلہ اور پناہ کی تفصیلات
میڈیا رپورٹس کے مطابق رحمان اللہ لکنوال 2021 میں ‘آپریشن الائیز ویلکم’ کے تحت امریکا آیا تھا، جو طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد افغان شہریوں کو انسانی بنیادوں پر امریکا منتقل کرنے کا پروگرام تھا۔
اس نے 2024 میں سیاسی پناہ کی درخواست دی جو 2025 میں منظور ہوئی، جبکہ اس کی گرین کارڈ کی درخواست تاحال زیرِ التوا ہے۔
صدر ٹرمپ کا ردِعمل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ویڈیو بیان میں حملہ آور کو ’’افغانستان سے آنے والا غیر ملکی‘‘ قرار دیتے ہوئے سابقہ انتظامیہ کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی۔
تحقیقات جاری
ڈی سی میٹرو پولیٹن پولیس اور ایف بی آئی واقعے کی مشترکہ تحقیقات کر رہے ہیں۔ ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل کے مطابق دونوں زخمی اہلکاروں کی حالت نازک ہے جبکہ حملے کے محرکات سے متعلق مزید حقائق سامنے آنے کا انتظار ہے۔