ریاستِ فلسطین نے وزیراعظم شہباز شریف کے دل سوز خطاب کو اپنے آفیشل پلیٹ فارم پر نمایاں کر دیا

ریاستِ فلسطین نے وزیراعظم شہباز شریف کے دل سوز خطاب کو اپنے آفیشل پلیٹ فارم پر نمایاں کر دیا

(ویب ڈیسک) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے مظلوم اور معصوم بچوں کے حق میں کی گئی پردرد اور اثر انگیز تقریر کے اقتباسات کو ریاستِ فلسطین نے اپنے باضابطہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”اسٹیٹ آف فلسطین“ پر نمایاں طور پر شیئر کیا ہے۔

ریاستِ فلسطین نے بیان میں کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے فلسطینی خواتین، بچوں اور بزرگوں پر ڈھائے جانے والے بہیمانہ مظالم کو عالمی ضمیر کے سامنے انتہائی جرات اور درد مندی سے اجاگر کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ہند رجب اور وفا عقیلہ جیسی معصوم کلیوں کی اندوہناک شہادتوں کا تذکرہ وزیراعظم کے خطاب کا سب سے نمایاں اور جذباتی پہلو رہا، جس میں غزہ کے بچوں کے بنیادی حقِ زندگی اور خوابوں کے تحفظ کا سوال پوری عالمی برادری کے روبرو رکھا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں فلسطین کا خصوصی احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ نسل در نسل فلسطینی عوام، بالخصوص مائیں، بچے اور بزرگ، غیر قانونی قبضے، جبری بے دخلیوں، مسلسل مصائب اور موت کا سامنا کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال انہوں نے معصوم بچی ہند رجب کی اندوہناک داستان بیان کی تھی، جسے اسرائیلی فورسز نے بے دردی سے نشانہ بنایا۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال ایک اور سانحہ پوری انسانیت کے دل پر بوجھ بن گیا ہے، جو 8 سالہ وفا عقیلہ کی سسکتی ماں کی دلخراش چیخوں کی صورت سامنے آیا۔

وزیراعظم کے الفاظ نے ایوان کو ہلا کر رکھ دیا جب انہوں نے کہا: ”جس دن وفا عقیلہ کے لیے اسکول کا پہلا دن ہونا چاہیے تھا، افسوس کہ اسرائیلی بربریت نے اسے اس کی زندگی کا آخری دن بنا دیا۔“

وزیراعظم نے کٹہرے میں کھڑے عالمی اداروں سے سوال کیا کہ کیا غزہ میں آنکھ کھولنے والے بچے کو دنیا کے کسی بھی دوسرے خطے کے بچے کی طرح جینے، مسکرانے، بہتر مستقبل پانے اور خواب دیکھنے کا مسلمہ حق حاصل نہیں ہے؟

انہوں نے متنبہ کیا کہ ہند رجب، وفا عقیلہ اور ان گنت معصوم جانوں کے المیے تاریخ میں دنیا کی مجرمانہ خاموشی، ناکامی اور کھلی بے عملی کے خلاف ایک مستقل فردِ جرم کے طور پر گونجتے رہیں گے۔

Watch Live Public News