ویب ڈیسک: ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں مبینہ خودکش دھماکے کے نتیجے میں مجموعی طور پر 11 افراد نے جام شہادت نوش کیا۔
ذرائع کے مطابق دھماکا ڈی آئی خان-کوئٹہ روڈ پر واقع انسدادِ اسمگلنگ ’امن میلہ پولیس چیک پوسٹ‘ پر ہوا۔ بارود سے بھری گاڑی (VBIED) انسدادِ اسمگلنگ چیک پوسٹ سے ٹکرائی گئی، دھماکا انتہائی شدید نوعیت کا تھا۔ دھماکے کے نتیجے میں مجموعی طور پر 11 افراد شہید ہوئے، شہداء میں 6 پولیس اہلکار، 2 کسٹمز اہلکار، 2 خواتین اور ایک 2 سالہ بچہ شامل ہیں۔
انسدادِ اسمگلنگ چیک پوسٹ پر حملہ، دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر (اسمگلرز) کے گٹھ جوڑ کا واضح ثبوت ہے۔ خوارج کی جانب سے ایک بار پھر سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو وحشیانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ دھماکے میں پولیس اہلکاروں، کسٹمز حکام اور عام شہریوں سمیت 30 سے زائد افراد زخمی۔زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک ہے جس کے باعث شہداء کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔ سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی ہے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ مقامی لوگوں میں خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دہشت گردی سے لا تعلقی اور بے حسی پر شدید غصہ اور بیچینی پائی جاتی ہے۔