ویب ڈیسک: پہلگام حملے پر بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ نے بھارتی حکومت کے جھوٹ کو بے نقاب کرتے ہوئے اس کے پراپیگنڈے کا پول کھول دیا ہے۔
انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق، 22 اپریل کو ہونے والے پہلگام حملے کے پیچھے طویل منصوبہ بندی اور مقامی مدد شامل تھی، نہ کہ پاکستان سے کسی تازہ دراندازی کا کوئی ثبوت ملا ہے۔
تحقیقات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ دہشت گردوں نے کوکرناگ کے جنگلات سے 22 گھنٹے تک دشوار گزار راستوں سے پیدل سفر کیا اور وادی بیساران میں حملہ کیا۔ اس کے برعکس، بھارتی میڈیا اور حکومتی عہدیدار پہلے دعویٰ کر رہے تھے کہ حملہ آور پاکستان سے آئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق، حملہ آوروں کا پیدل سفر اتنی طویل مدت تک جاری رہا، لیکن بھارتی فورسز کو اس کا کوئی علم نہ ہوا۔ یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر بھارتی سکیورٹی فورسز اتنی غفلت کا مظاہرہ کر رہی تھیں، تو پھر پاکستان پر الزام لگانے کا کیا جواز تھا؟
بھارتی وزارت داخلہ کے حکم پر اب قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے اس کیس کی تفتیش سنبھال لی ہے، اور این آئی اے کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر موجود ہیں جہاں بیساران وادی کے داخلی اور خارجی راستوں کا تفصیلی معائنہ کیا جا رہا ہے۔
یہ تمام حقائق اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارتی حکومت کا پاکستان پر فوری الزام لگانا نہ صرف بے بنیاد تھا، بلکہ اپنے داخلی مسائل اور مقامی شدت پسندی پر پردہ ڈالنے کی ایک بھونڈی کوشش تھی۔
حملے میں ملوث افراد کی مقامی سرگرمیاں اور بھارتی سکیورٹی اداروں کی غفلت نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ بھارت اپنے اندرونی مسائل کا ملبہ پاکستان پر ڈال کر دنیا کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔