(ویب ڈیسک ) جنوبی کوریا نے اسکولوں میں موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل ڈیوائسز کے استعمال پر پابندی کا بل منظور کر لیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق یہ اقدام نوجوانوں میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اس کے منفی اثرات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔ یہ پابندی مارچ 2026 سے نافذ العمل ہوگی، اور اس طرح جنوبی کوریا، آسٹریلیا کے بعد نابالغ افراد پر اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے والا تازہ ترین ملک بن گیا ہے۔
پیوریسرچ سینٹر (Pew Research Center) کے مطابق جنوبی کوریا دنیا کے سب سے زیادہ ڈیجیٹل طور پر جڑے ہوئے ممالک میں سے ایک ہے، جہاں 98 فیصد آبادی کے پاس اسمارٹ فون موجود ہے۔ اپوزیشن پیپلز پاور پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکنِ پارلیمنٹ چو جنگ ہن، جنہوں نے اس بل کو پیش کیا ہے ، انہوں نے کہا ہے کہ ’’ہمارے نوجوان سوشل میڈیا کے عادی ہو چکے ہیں۔ ان کی آنکھیں ہر صبح سرخ ہوتی ہیں کیونکہ وہ رات 2 یا 3 بجے تک انسٹاگرام استعمال کرتے رہتے ہیں۔‘‘
اس پابندی کے مثبت اثرات کی حمایت کرتے ہوئے اسٹینفورڈ سے تصدیق شدہ بچوں اور نوجوانوں کے رویے کی ماہر اروشی موسالے نے بتایا کہ گزشتہ ماہ نیدرلینڈز میں ایک تحقیق کی گئی، جس میں اسکولوں میں پابندی کے بعد ایک سال تک طلبہ کو ٹریک کیا گیا۔ ’’ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ 70 فیصد طلبہ کی توجہ بہتر ہوئی اور وہ اسکول کی سرگرمیوں میں زیادہ متحرک ہوئے،‘‘
اروشی نے کہا کہ ’’جب ادارے اس طرح کے اقدامات کرتے ہیں تو طلبہ میں ڈیجیٹل ڈیوائسز کے نقصان دہ استعمال کے بارے میں شعور پیدا ہوتا ہے اور سوچ میں تبدیلی آتی ہے۔ ہمیں بچوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ موبائل فون ہر وقت تفریح کا ذریعہ نہیں ہیں۔‘‘