ویب ڈیسک : چین کے اس نئے ’اسالٹ شپ‘ میں ایسی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے جس کے تحت لڑاکا طیارے ’الیکٹرو میگنیٹک فورس‘ کے ذریعے براہ راست ہی اس جہاز کے ڈیک پر اتر اور وہاں سے پرواز کر سکیں گے۔
تفصیلات کے مطابق عوامی جمہوریہ چین نے جنگوں میں حملوں کے لیے استعمال ہو سکنے والا اور نئی طرز کا اپنا جو بحری جہاز ' سیچوان‘ لانچ کیا ہے، وہ سمندر میں اور خشکی پر بھی یکساں صلاحیت سے جنگی حملے کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔
یہ اسالٹ شپ جمعہ 27 دسمبر کو لانچ کیا گیا اور اس کی لانچنگ کی تقریب شنگھائی کے ہوڈونگ ژونگ ہوا شپ یارڈ میں منعقد ہوئی۔
سیچوان 076 طرز کا زمینی کے ساتھ ساتھ بحری نوعیت کے عسکری مقاصد کے حصول کا اہل اپنی نوعیت کا پہلا ماڈل اور چینی بحریہ کو ملنے والا آج تک کا سب سے بڑا جنگی جہاز ہے۔ یہ لڑائی کے لیے زمینی دستوں کو لانچ کرنے اور فوجیوں کو فضائی مدد فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
چین کی سرکاری نیوز ایجنسی شنہوا کے مطابق یہ جنگی بحری جہاز ایک برقی مقناطیسی کیٹاپلٹ سے لیس ہے، جس کے ذریعے جنگی طیارے اس کے عشرے سے براہ راست فضا میں بلند ہو کر حملہ کر سکتے ہیں۔ ' سیچوان‘ میں 'اریسٹر ٹیکنالوجی‘ بھی استعمال کی گئی ہے تاکہ لڑاکا طیارے زیادہ فاصلہ طے کیے بغیر اس کے ڈیک پر اتر کر فوراﹰ رک سکیں۔
اس نئے جنگی بحری جہاز کو عملی خدمات کے لیے چینی بحریہ میں شامل کیے جانے سے قبل مزید جانچ اور سمندری آزمائشی مراحل سے گزارا جائے گا۔
عسکری صلاحیتوں میں وسعت اور جدت کے لیے کوشاں ہے۔ چین نے 2019 ء میں 075 طرز کے 'ایمفیبیئس اسالٹ شپس‘ کا اپنا پہلا سیٹ لانچ کیا تھا۔ یہ بحری جہاز زمینی اور بحری دونوں طرح کے عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔
بیجنگ کا مقصد ہے کہ اس کی افواج صرف چین کے قریب ہی مصروف عمل رہنے کی اہل ہونے کے بجائے عالمی سطح پر بھی کام کرنے کے قابل ہوں۔