ویب ڈیسک: ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور متعدد ممالک نے کشیدگی کم کرنے پر زور دیا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کلاس نے صورتِ حال کو "انتہائی خطرناک" قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آج اسرائیلی وزیر خارجہ سے بات کی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ شہریوں کا تحفظ اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
سوئٹزرلینڈ کی وزارتِ خارجہ نے امریکی اور اسرائیلی حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے اور شہریوں و سویلین تنصیبات کے تحفظ کی اپیل کی۔
ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے خبردار کیا کہ یہ حملے مشرقِ وسطیٰ کو تباہی کے دہانے پر لے آئے ہیں، اور واشنگٹن و تہران پر زور دیا کہ وہ مزید کشیدگی کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کریں۔
سلووینیا کی صدر نتاشا پیرک موسار نے کہا کہ وہ صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور خطے میں بڑھتی کشیدگی امن و استحکام کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔
یوکرین کی وزارتِ خارجہ نے بیان میں کہا کہ تہران کو پرتشدد منظرنامے سے بچنے کے مواقع میسر تھے، تاہم یوکرین ایرانی عوام کے لیے سلامتی، خوشحالی اور آزادی، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کے لیے استحکام اور ترقی کا خواہاں ہے۔
آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ ان کا ملک ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے امریکی اقدامات کی حمایت کرتا ہے، اور ایرانی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتا ہے۔
ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد روسی سیکیورٹی کونسل کے ڈپٹی چیئرمین اور سابق صدر دمتری میدویدیف نے سخت ردعمل دیا ہے۔ اپنے بیان میں میدویدیف نے کہا کہ خود کو امن کا علمبردار کہنے والے ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنی حقیقت ظاہر کر دی۔ ان کے بقول ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات محض ایک پردہ تھے اور کسی کو شبہ نہیں تھا کہ سنجیدہ بات چیت کی نیت موجود نہیں تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کی تاریخ محض 249 سال پر محیط ہے، جبکہ فارسی سلطنت کی بنیاد ڈھائی ہزار سال سے بھی پہلے رکھی گئی تھی، اور دیکھتے ہیں آئندہ 100 سال میں کیا ہوتا ہے۔
ادھر بھارت کے اسرائیل اور ایران میں سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو انتہائی احتیاط برتنے، غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور صورتِ حال پر مسلسل نظر رکھنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
عالمی برادری کی جانب سے بڑھتی کشیدگی پر تشویش کے ساتھ ساتھ سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔