(ویب ڈیسک ) پنجاب یونیورسٹی میں ایک مرتبہ پھر لڑائی ہوگئی۔ طلباء کے دو گروپ آپس میں لڑ پڑے۔
دونوں گروپوں نے ایک دوسرے پر پتھروں اور ڈنڈوں سے حملہ کیا۔جس میں متعدد طلبا کے زخمی ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس حوالے سے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ موقع پر موجود ہیں، حالات کنٹرول میں ہیں۔ ہیلے کالج میں پشتون کونسل اور اسلامی جمیعت طلبہ کے الگ الگ ایونٹس تھے، کالج میں ایونٹس کے بعد لڑائی ہوئی ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی پنجاب یونیورسٹی میں سٹوڈنٹ فیڈریشن اور سکیورٹی اہلکاروں میں جھگڑا ہوا۔ طلبا کی جانب سے پتھراؤ سے متعدد گارڈز زخمی ہوگئے تھے۔
اس حوالے سے ترجمان کا کہنا تھا کہ پنجاب یونیورسٹی کے دس سکیورٹی گارڈز زخمی ہوئے، طلباء نے یونیورسٹی گارڈز پر شیشے کی بوتلوں سے حملہ کیا، طلباء کے پتھراؤ سے گارڈز کے سر پھٹ گئے۔
ترجمان نے بتایا کہ طلبا نے طے شدہ قوائد سے ہٹ کر اشتعال انگیز تقاریر کیں، طلباء تنظیموں نے اشتعال انگیز تقاریر نہ کرنے کی یقین دہانی کرا رکھی تھی،کچھ طلباء نے قوائد کے مطابق اپنی تقاریر کیں، ایک طالبعلم نے انتہائی اشتعال انگیز تقریر شروع کر دی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ طالبعلم کی اشتعال انگیز تقریر سے متعلق تنظیم کے سربراہ کو سکیورٹی آفیسر نے فوری آگاہ کیا، طالبعلم کے اشتعال انگیز تقریر کرنے پر گارڈز نے اسے سائیڈ پر کیا، دریں اثناء طلباء نے گارڈز پر حملہ کر دیا، طلباء نے نزدیکی کینٹین سے شیشے کی بوتلوں، پتھروں اور ڈنڈوں سے گارڈز پر حملہ کر دیا، بعد ازاں گارڈز نے اپنے دفاع میں کارروائی کی۔
وائس چانسلر ڈاکٹر محمدعلی نے طلباء کی جانب سے گارڈز پر حملے کی سخت مذمت کی تھی۔ترجمان کا کہنا تھا کہ وائس چانسلر نے زخمی سکیورٹی گارڈ کا بہترین علاج معالجہ کرانے کی ہدایت کی ہے۔
ترجمان کا مزید کہنا تھاکہ وائس چانسلر نے عینی شاہدین اور وڈیوز کی روشنی میں ملوث طلباء کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دے دی، کچھ عناصر یونیورسٹی کا پرامن ماحول خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔