اولاد کو راہ راست پر لانے کا وظیفہ

اولاد کو راہ راست پر لانے کا وظیفہ
کیپشن: اولاد کو راہ راست پر لانے کا وظیفہ

ویب ڈیسک: اگر آپ کے گھر یا خاندان میں کوئی نافرمان اولاد ہے جو بات نہیں مانتی، والدین کی عزت نہیں کرتی یا غلط راستے پر چل نکلی ہے، تو یہ مسئلہ ہر ماں باپ کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں صبر اور دعا سب سے مؤثر ہتھیار ہیں۔ 

تاہم قرآن وسنت کی روشنی میں بہت سے ایسے وظائف ہیں۔ جنہیں صدق دل سے کرنے سے اللہ کے فضل سے نافرمان بچوں کے دلوں میں نرمی پیدا ہوتی ہے اور انہیں راہِ راست پر لانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

دارالافتاءجامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی کی ویب سائٹ پراولاد کو راہ راست پر لانے سے متعلق پوچھے گئے سوال پرتفصیلی وظیفہ شائع کیا گیا ہے۔ جو کہ قارئین کیلئے پیش خدمت ہے۔

اولاد کو راہِ راست پر لانے کا عمل

سوال

ہمارا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے ہے، نماز کی پابندی کی جاتی ہے ہم 4 بہنیں اور ایک بھائی ہے۔

کچھ دنوں سے ہمارے گھر میں بہت زیادہ بے چینی ہوئی ہوئی ہے، وجہ یہ ہے کہ ہمارا بھائی ایک لڑکی کو پسند کرنے لگا ہے جس کے بارے میں معلومات ہوئی ہیں کہ وہ لڑکی کسی  اچھے گھرانے سے تعلق نہیں رکھتی ہے، جب سے یہ بات امی ابو  کو معلوم ہوئی ہے، وہ بھی اس رشتہ پر راضی نہیں ہیں۔  دوسری طرف بھائی نے نافرمانی کی حد پار کردی ہے، صبح گھر سے چلے جاتے ہیں اور رات کو نو دس بجے گھر میں داخل ہوتے ہیں۔ گھر والوں سے بات کرنی تک چھوڑ دی ہے اور ہم سب گھر والوں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ مگر مجھے اللہ پر پورا یقین ہے کہ وہ اچھا راستہ نکال دے گا۔  آپ سے یہ التماس ہے کہ کوئی وظیفہ بتادیں کہ بھائی امی ابو کی نا فرمانی نہ کرے، ابو کافی بیمار بھی رہنے لگے ہیں، اور امی کی صحت ٹھیک نہیں ہے!

جواب

بندوں کے دل اللہ تبارک وتعالیٰ کے دستِ قدرت میں ہیں، وہ جب چاہے جس طرف چاہے انہیں پھیرنے پر قدرت رکھتاہے، آپ کے والدین اور آپ گھر والوں کو چاہیے کہ صدقِ دل سے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کریں، دعا ہی سب سے بڑا وظیفہ ہے، دل کی گہرائی سے اخلاص پر مبنی دعا جب یقین کے ساتھ مانگی جائے تو وہ ضرور قبول ہوتی ہے، لہٰذا آپ تہجد کے اوقات میں اللہ رب العزت کے حضور خیر کی دعا مانگیں۔

نیز اس طرح کے معاملات میں ضد کی بجائے معاملہ فہمی سے کام لینا چاہیے، آپ اور آپ کے والدین کو بھی چاہیے کہ وہ آپ کے بھائی کے ساتھ رویہ نرم رکھیں، اور حکمت و بصیرت کے ساتھ ہی فہمائش کی کوشش کریں تاکہ وہ آپ کو اپنا مخالف نہ سمجھیں۔ اور اچھی طرح جان کاری کرلیں، ممکن ہے کہ مذکورہ لڑکی اور اس کے خاندان کے ماحول میں اصلاح کی گنجائش موجود ہو، اس صورت میں مثبت قدم اٹھانا بہتر ہوگا۔ خاندان کے کسی سمجھ دار فرد سے بھی اس سلسلے میں مدد لی جاسکتی ہے۔

بہر حال "یا بدیع العجائب بالخیر" کثرت سے پڑھ کر اپنے بھائی کے لیے دعا کریں، اللہ کی ذات سے قوی امید ہے کہ وہ بہتر راستہ نکال دے گا۔ فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144003200109

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

اس وظیفے کو پڑھنے کیلئے  جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کے دارالافتاء  کی ویب سائٹ پر جا کر مطالعہ کر سکتے ہیں۔

Watch Live Public News