ویب ڈیسک: ریٹائرڈسرکاری ملازمین کی پینشن میں کٹوتیوں کےخلاف کیس کی سماعت ، عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو عدالتی معاونت کےلئے طلب کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کیس کی سماعت کے دوران استفسار کیا کہ آگاہ کیاجائے کہ باقی صوبوں میں پینشن کا اطلاق کیسے کیاجارہاہے۔ اگر باقی صوبوں نے وفاق کومدنظر رکھاہے تو پنجاب نے کیوں نظر انداز کیا۔ کیا سرکاری امور ایسے چلائے جاسکتے ہیں۔ آپ ملازمین کاخون چوس رہے ہیں۔ دیکھاجائے توملازمین کا انحصار تو صرف تنخواہ یا پنشن پر ہی ہوتا ہے۔
درخواست گزار محمد اسلم کےوکیل میاں جعفر حسین نے دلائل دئیےہوئے موقف اپنایا کہ پینشن رولز میں ترمیم کرکے ملازمین سے آدھی پینشن ہتھائی جارہی ہے۔ پنجاب میں پینشن رولز میں ترمیم کی من پسند تشریح کرکے ڈاکہ ڈالاگیا۔ وفاق نے قبل ازوقت ریٹارمنٹ لینے والوں کو مکمل پینشن کا حق دار قرار دیا۔ وفاق نے لیو انکیشمنٹ اور ایل پی آر پر جانے والوں کو بھی مکمل پینشن کااہل قرار دیا۔
وکیل نے استدعا کی کہ عدالت پنجاب کو پینشن رولز میں ترمیم کی من پسند تشریح سے روکنے کا حکم دے۔ عدالت سرکاری ملازمین کی قانون کےمطابق مکمل پینشن کی ادائیگی کاحکم دے۔