سیاسی اور جمہوری طریقے سے حکومت گراکردکھاؤ،علی امین گنڈاپورکا چیلنج

سیاسی اور جمہوری طریقے سے حکومت گراکردکھاؤ،علی امین گنڈاپورکا چیلنج
کیپشن: سیاسی اور جمہوری طریقے سے حکومت گراکردکھاؤ،علی امین گنڈاپورکا چیلنج

ویب ڈیسک: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے واضح اور جارحانہ انداز میں کہا ہے کہ ان کی حکومت کو صرف سیاسی اور جمہوری طریقے سے ہی گرایا جا سکتا ہے، اور یہ بھی ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ انہوں نے یہ بات ڈسٹرکٹ کورٹس اسلام آباد میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیشہ کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 5 اگست کو پورے ملک سے عوام سڑکوں پر نکلیں گے اور یہ احتجاج بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے ہوگا۔ان کا کہنا تھاکہ "ہم نے پہلے بھی قانون کا سامنا کیا ہے اور آئندہ بھی کریں گے، مقدمات سے گھبرانے والے نہیں ہیں"۔

علی امین گنڈاپور نے اپنے خلاف درج مقدمات کو بے بنیاد اور جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مقدمہ 2016 سے چل رہا ہے اور اس میں ان کا کوئی براہ راست تعلق نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کیس میں اسلحہ اور بوتلیں ان پر ڈالنے کی کوشش کی گئی، حالانکہ واقعے کے وقت نہ وہ خود وہاں موجود تھے اور نہ ہی گاڑی ان کی تھی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ 5 اگست کو ہونے والے ملک گیر احتجاج کی قیادت وہ خود اپنے صوبے خیبرپختونخوا میں کریں گے، کیونکہ ان کے بقول یہ احتجاج حق اور انصاف کے لیے ہے، اور یہ جنگ وہی جیتیں گے۔

عدالت سے ریلیف: وارنٹ گرفتاری منسوخ

دوسری جانب اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں علی امین گنڈاپور کے خلاف درج اسلحہ اور شراب برآمدگی کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران علی امین عدالت کے روبرو پیش ہوئے، جس پر عدالت نے ان کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کر دیے۔

جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن چشتی نے کیس کی سماعت کی، جس میں علی امین گنڈاپور اپنے وکیل راجہ ظہور الحسن کے ہمراہ پیش ہوئے۔ عدالت نے ان کی حاضری کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں جانے کی اجازت دے دی۔ اس کے علاوہ ان کے ضمانتی کو جاری کیا گیا شوکاز نوٹس بھی واپس لے لیا گیا۔

یاد رہے کہ علی امین گنڈاپور کے خلاف تھانہ بارہ کہو میں اسلحہ اور شراب کی برآمدگی سے متعلق مقدمہ درج ہے، جو کئی سالوں سے زیر التوا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق علی امین کا جارحانہ موقف اور 5 اگست کے احتجاج کا اعلان موجودہ سیاسی تناؤ میں ایک نیا موڑ پیدا کر سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ آیا ان کے اس احتجاجی لائحہ عمل سے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی راہ ہموار ہوتی ہے یا حکومتی ردعمل مزید سخت ہوگا۔

Watch Live Public News