ویب ڈیسک: سرکاری ملازم پر تشدد کے کیس میں گرفتار چیئرمین چنیسر ٹاؤن فرحان غنی اور ان کے دو ساتھیوں کو رہا کر دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق تینوں ملزمان کے خلاف فیروزآباد تھانے میں دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا اور انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ان کا 30 اگست تک جسمانی ریمانڈ بھی منظور کیا تھا۔ تاہم مدعی کی جانب سے مقدمہ واپس لینے کے بعد پولیس نے ملزمان کو ضمانت کے بجائے براہِ راست رہا کر دیا۔
انسداد دہشت گردی کی منتظم عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران ملزمان کے وکیل وقار عالم عباسی نے بتایا کہ مدعی سہیل نے مقدمہ واپس لے لیا ہے اور اس سلسلے میں تحریری درخواست تفتیشی افسر کو جمع کروا دی گئی ہے۔ وکیل نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ مدعی مقدمے سے دستبردار ہو چکا ہے، اس لیے رہائی پانے والے ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اب صرف تفتیشی افسر عدالت میں ملزمان کی رہائی سے متعلق رپورٹ جمع کرائیں گے۔
ذرائع کے مطابق ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک سرکاری ملازم پر تشدد کیا اور اسے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس نے ملزمان کو گرفتار کرکے عدالت سے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تھا تاکہ مزید تفتیش کی جا سکے۔ تاہم اچانک مدعی کے مقدمہ واپس لینے سے کیس کا رخ ہی بدل گیا اور ملزمان رہا ہو گئے۔