امریکی سپریم کورٹ نے پیدائشی شہریت محدود کرنے سے متعلق ٹرمپ کا صدارتی حکم مسترد کر دیا

امریکی سپریم کورٹ نے پیدائشی شہریت محدود کرنے سے متعلق ٹرمپ کا صدارتی حکم مسترد کر دیا

(ویب ڈیسک)امریکی سپریم کورٹ نے امریکا میں پیدائش کی بنیاد پر شہریت (برتھ رائٹ سٹیزن شپ) کو محدود کرنے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا صدارتی حکم نامہ مسترد کر دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سپریم کورٹ نے 6 کے مقابلے میں 3 ججوں کی اکثریت سے فیصلہ سناتے ہوئے ماتحت عدالت کے اس حکم کو برقرار رکھا، جس کے تحت ٹرمپ کے صدارتی حکم نامے پر عمل درآمد روک دیا گیا تھا۔

متنازع صدارتی حکم نامے میں وفاقی اداروں کو ہدایت کی گئی تھی کہ امریکا میں پیدا ہونے والے ایسے بچوں کو امریکی شہریت نہ دی جائے جن کے والدین نہ تو امریکی شہری ہوں اور نہ ہی قانونی طور پر مستقل رہائشی (گرین کارڈ ہولڈر) ہوں۔

درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ صدارتی حکم امریکی آئین کی 14ویں ترمیم سے متصادم ہے، جو امریکا میں پیدا ہونے والے افراد کو شہریت کا آئینی حق فراہم کرتی ہے۔

درخواست گزاروں نے مزید نشاندہی کی کہ سپریم کورٹ 1898 کے ایک تاریخی مقدمے میں پہلے ہی قرار دے چکی ہے کہ 14ویں آئینی ترمیم کے تحت امریکا میں پیدا ہونے والے افراد امریکی شہریت کے حقدار ہیں، خواہ ان کے والدین غیر ملکی ہی کیوں نہ ہوں۔

Watch Live Public News