ٹرمپ نے ایران سےجنگ کا اصل مقصد بتادیا

ٹرمپ نے ایران سےجنگ کا اصل مقصد بتادیا
کیپشن: ٹرمپ نے ایران سےجنگ کا اصل مقصد بتادیا

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے تیل کے ذخائر پر قبضے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کے اہم جزیرے اور تجارتی بندرگاہ خارگ پر کنٹرول حاصل کرنے پر غور کر رہے ہیں، جہاں سے ایران کی 90 فیصد سے زائد تیل برآمدات ہوتی ہیں۔

ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ ان کی اولین ترجیح ایران کا تیل حاصل کرنا ہے، اور اس حوالے سے تنقید کرنے والوں کو انہوں نے سخت الفاظ میں رد کیا۔

یہ بیان ایران کے حوالے سے امریکی حکمت عملی کی اب تک کی سب سے واضح عکاسی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل وینزویلا کے معاملے پر ٹرمپ محتاط نظر آئے تھے، تاہم بعد ازاں انہوں نے وہاں بھی سخت اقدامات کیے۔

ایران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کے پاس کئی آپشنز موجود ہیں، جن میں خارگ جزیرے پر قبضہ بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا وہاں کارروائی کرتا ہے تو کچھ عرصہ قیام بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

ادھر جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پہلے ہی بلند سطح پر پہنچ چکی ہیں، اور امریکی خام تیل کی قیمت 116 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔

اس دوران امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں مزید ہزاروں فوجی تعینات کر دیے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

دوسری جانب امریکی انتظامیہ کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک پندرہ نکاتی امن منصوبے پر کام جاری ہے، تاہم صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی تیل تجارت کا تقریباً 20 فیصد متاثر ہو رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق امریکا اب تک ایران میں ہزاروں اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے جبکہ مزید کارروائی کے امکانات بھی موجود ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا خارگ جزیرے پر قبضے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے لیے بڑے پیمانے پر زمینی فوجی آپریشن درکار ہوگا، جو نہ صرف جنگ کو مزید وسعت دے سکتا ہے بلکہ امریکا کے لیے بھاری جانی نقصان کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

Watch Live Public News