ویب ڈیسک:(دانش منیر) ایک طرف مذاکرات تو دوسری طرف مظاہرین کے خلاف شکنجہ سخت کرنے کا پلان۔۔سرکاری ملازمین کے احتجاج کو روکنے کے لیے سخت ہدایات جاری کردیں گئیں۔
تفصیلا ت کے مطابق ذرائع کاکہنا ہے کہ چیف سیکرٹری پنجاب کی جانب سے صوبہ بھر کے سیکرٹریز اور ڈپٹی کمشنرز کو احتجاج میں شرکت سے روکنے کا ٹاسک سونپ دیاگیا۔ احتجاج والے دن ملازمین کی حاضری دفاتر میں ہر صورت یقینی بنائی جائے،غیر حاضری پر سخت کاروائی کی جائے۔
لیو انکیشمنٹ ، پنشن رولز اور رول 17 کی بحالی کے لیے ہفتہ وار جاری سرکاری ملازمین کے روکنے کے لیے چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کی جانب سے سخت ہدایات جاری کردیں گئیں۔
ذرائع کے مطابق چیف سیکرٹری پنجاب نے تمام انتظامی سیکرٹریز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت جاری کیں کہ خفیہ سروےسے معلوم ہوا کہ سرکاری ملازمین کے احتجاج کو نہ روکا گیا تو کنٹرول سے باہر ہوجائے گا،لہذا سرکاری ملازمین کا احتجاج ہر صورت روکا جائے اور احتجاج والے دن ملازمین سڑکوں پر نہیں بلکہ دفاتر میں ہوں تمام انتظامی سیکرٹریز اور ڈپٹی کمشنرز کو حاضری یقنی بنانےکی ہدایات جاری کر دی گئیں ہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ احتجاج کی کال والے دن غیر حاضر سرکاری ملازم کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے۔
یاد رہے کہ چیف سیکرٹری پنجاب کے حکم پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری احمد رضا سرور مظاہرین سے مذاکرات کررہے ہیں اور سیکرٹری ایکسائز مسعود مختاربھی مذاکرات میں پیش پیش ہیں مگر ملازمین کو کچھ حاصل نہ ہوا،حاضری یقنی بنانے کی ہدایت پر سول سیکرٹریٹ کوآرڈینیشن نے اپنا احتجاج موخر کیا جبکہ سرکاری ملازمین ہر جمعرات کو سول سیکرٹریٹ کے اندر اور باہر احتجاج کررہے ہیں۔لاہور کے علاوہ سرکاری ملازمین دیگر اضلاع متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کے دفاتر میں احتجاج کرتے ہیں۔