ویب ڈیسک: آج کل دل کے دورے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر 40 سال کے قریب عمر کے نوجوان افراد زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کئی مواقع پر دل کا دورہ اچانک پڑتا ہے اور اگر ایسے وقت میں کوئی شخص گھر میں اکیلا ہو تو بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث جان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ایسے حالات میں یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ دل کے دورے کی علامات محسوس ہونے پر فوری طور پر کیا اقدامات کیے جائیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دل کے دورے سے قبل اکثر افراد کو کچھ وارننگ علامات محسوس ہوتی ہیں، مگر انہیں معمولی سمجھ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
دل کے دورے کی سب سے عام علامت سینے میں دباؤ، جکڑن یا بھاری پن ہے، جو جلنے یا سکڑنے جیسا محسوس ہو سکتا ہے۔ یہ درد گردن، جبڑے، کندھوں، بازوؤں یا پیٹھ تک بھی پھیل سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سانس لینے میں دشواری، متلی، چکر آنا اور زیادہ پسینہ آنا بھی اہم علامات میں شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق خواتین اور ذیابیطس کے مریضوں میں دل کے دورے کی علامات مختلف ہو سکتی ہیں، جن میں شدید تھکن، بدہضمی یا پیٹھ کے اوپری حصے میں درد شامل ہے۔ ان ابتدائی علامات کو پہچان کر فوری مدد حاصل کرنا سب سے اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکا کے معروف کارڈیو ویسکولر سرجن ڈاکٹر جرمی لندن نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے ایسی صورتحال میں جان بچانے کے لیے اہم ہدایات جاری کی ہیں۔ ان کے مطابق جیسے ہی سینے میں شدید درد، سانس میں دشواری، بے چینی یا پسینہ محسوس ہو، فوراً ایمرجنسی نمبر پر کال کر کے اپنی حالت واضح طور پر بتائیں، کیونکہ چند منٹ کی تاخیر بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
اگر کوئی شخص اکیلا ہو تو فون اپنے قریب رکھے اور کسی قریبی رشتہ دار یا پڑوسی کو فوری اطلاع دے۔ بولنے میں دشواری ہو تو فون اسپیکر پر رکھ کر ہیلپ لائن یا قریبی افراد کو پیغام بھیجا جا سکتا ہے تاکہ بروقت مدد پہنچ سکے۔
ڈاکٹر جرمی لندن کے مطابق اگر اسپرین دستیاب ہو اور کسی قسم کی الرجی یا خون بہنے کی بیماری نہ ہو تو اسپرین کی گولی کو آہستہ آہستہ چبا کر کھایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسپرین خون کو پتلا کرنے میں مدد دیتی ہے اور دل کی شریانوں میں خون جمنے کے عمل کو سست کر سکتی ہے، تاہم یہ مکمل علاج نہیں بلکہ ابتدائی امداد ہے۔ اسپرین صرف ڈاکٹر یا ایمرجنسی آپریٹر کی ہدایت پر ہی استعمال کی جانی چاہیے۔
ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ اگر کوئی شخص گھر میں اکیلا ہو تو دروازے ان لاک کر دے اور لائٹس آن رکھے تاکہ ایمرجنسی ٹیم کو اندر آنے میں آسانی ہو۔ دل کے دورے کے دوران بے ہوشی کا خطرہ ہونے کے باعث بہتر ہے کہ فوراً کسی محفوظ جگہ پر بیٹھ جائیں یا لیٹ جائیں تاکہ گرنے سے چوٹ نہ لگے۔
اس کے ساتھ ساتھ کسی قریبی دوست یا رشتہ دار کو فون کر کے مسلسل رابطے میں رہنا بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے تاکہ وہ فوری مدد کا انتظام کر سکیں۔
ماہرین کے مطابق دل کا دورہ ایک نہایت نازک اور خطرناک صورتحال ہے، تاہم بروقت فیصلے، ہوش مندی اور درست اقدامات کے ذریعے قیمتی جان بچائی جا سکتی ہے۔ ایمبولینس یا ڈاکٹر کے پہنچنے تک یہ بنیادی اقدامات متاثرہ شخص کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔