ویب ڈیسک: دنیا میں تیل کا سب سے بڑا خریدار ہونے کے باوجود چین ایک منفرد پوزیشن میں ہے، جہاں وہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے اثرات کا مقابلہ دیگر ایشیائی ممالک کے مقابلے میں زیادہ مؤثر انداز میں کر سکتا ہے۔
جہاں جاپان، جنوبی کوریا اور بھارت جیسے ممالک توانائی بچانے کی اپیلیں کر رہے ہیں، وہیں چین اپنی توانائی کی خود کفالت پر انحصار کر رہا ہے، جس کے پیچھے دہائیوں پر محیط حکمتِ عملی کارفرما ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چین کی اس مضبوطی کی ایک بڑی وجہ الیکٹرک گاڑیوں کا تیزی سے بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ چین میں اس وقت دنیا کے دیگر تمام ممالک کے مقابلے میں زیادہ الیکٹرک گاڑیاں سڑکوں پر موجود ہیں، جس کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی طلب میں نمایاں کمی آئی ہے۔
اندازوں کے مطابق گزشتہ برس الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال سے چین نے اتنا تیل بچایا جتنا وہ سعودی عرب یا عراق سے درآمد کرتا ہے، جس سے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں غیر ملکی تیل پر انحصار کم ہو رہا ہے۔
چین کا بجلی کا نظام بھی بڑی حد تک بیرونی انحصار سے آزاد ہے، کیونکہ وہ اپنی زیادہ تر بجلی مقامی کوئلے، شمسی توانائی اور ہوا سے پیدا کرتا ہے۔ اس لیے اگر سمندری راستوں سے تیل یا گیس کی فراہمی متاثر بھی ہو جائے تو ملک کے صنعتی اور گھریلو نظام پر بڑا اثر نہیں پڑے گا۔
مزید برآں چین نے تیل کی درآمد کو مختلف ممالک میں تقسیم کر رکھا ہے، جس میں روس اور ایران بھی شامل ہیں، جبکہ زمینی راستوں اور خصوصی معاہدوں کے ذریعے سپلائی کو متبادل ذرائع سے یقینی بنایا گیا ہے۔
چین نے خاموشی سے تیل کے بڑے ذخائر بھی قائم کر رکھے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ذخائر اتنے ہیں کہ چین آبنائے ہرمز سے سپلائی بند ہونے کی صورت میں بھی کئی ماہ تک اپنی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔
اس کے علاوہ روس، وسطی ایشیا اور میانمار کے ساتھ تیل و گیس کی پائپ لائنوں کا وسیع نیٹ ورک چین کو سمندری راستوں پر مکمل انحصار سے بچاتا ہے۔
مختصراً، الیکٹرک گاڑیوں، مقامی توانائی کے ذرائع، وسیع ذخائر اور زمینی سپلائی لائنز کے باعث چین نے خود کو ایک مضبوط توانائی نظام میں تبدیل کر لیا ہے، جو عالمی بحرانوں کے اثرات کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔