ویب ڈیسک: چیف جسٹس پاکستان یحیی آفریدی کی پشاور میں خیبر پختونخوا بار کے وفد سے ملاقات، ملاقات میں چیف جسٹس پشاور ہاٸیکورٹ، پاکستان بار کونسل سمیت دیگر شریک ہوئے۔
اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس پاکستان نے وکلاء وفد کو عدالتی اصلاحات پر بریفنگ دی، پہلی بار بار نمائندوں کو قانون و انصاف کمیشن میں نمائندگی دی گئی، اجلاس میں جبری گمشدگیوں پر کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔
عدالتی افسران پر دباؤ سے بچاؤ کیلئے اعلیٰ عدالتوں کو ہدایات جاری کی گئی، تجارتی مقدمات کے جلد فیصلوں کیلئے کمرشل لِٹی گیشن کاریڈورز قائم کرنے کی ہدایت کی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق ماڈل کریمنل ٹرائل کورٹس کے قیام کا فیصلہ اور فوری انصاف کی یقین دہانی کرانے کا کہا گیا، چیف جسٹس نے پسماندہ علاقوں میں انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل سہولیات کی کمی پر تشویش کا اظہار کیا۔
اعلامیہ میں چیف جسٹس نے مفت قانونی معاونت کی نئی اسکیم کا اعلان بھی کیا، مالی مسائل کے شکار سائلین کو ریاستی خرچ پر وکیل فراہم کیے جائیں گے۔
چیف جسٹس نے وکلاء کو فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے پروگرامز میں شرکت کی ہدایت کی۔