پاکستانی سیٹلائٹ  چین سے لانچ کے بعد مقررہ مدار میں پہنچ گیا

پاکستانی سیٹلائٹ  چین سے لانچ کے بعد مقررہ مدار میں پہنچ گیا

(ویب ڈیسک ) پاکستان نے چین کے تعاون سے اپنا جدید ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ کامیابی سے خلا میں بھیج دیا، جو اپنے مقررہ مدار میں داخل ہو چکا ہے۔

قومی خلائی ادارے سپارکو کے مطابق یہ سیٹلائٹ چین کے ژیچانگ لانچ سینٹر سے کُوائژو-1 اے راکٹ کے ذریعے چینی وقت کے مطابق صبح 10 بجے لانچ کیا گیا۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی سیٹلائٹ کے کامیابی سے مدار میں پہنچنے کی تصدیق کی ہے۔

سپارکو کا کہنا ہے کہ "ریمورٹ سینسنگ سیٹلائٹ-1" (PRSS-1) پاکستان کے خلائی مشن میں ایک بڑا سنگ میل ہے، جو زمین کی نگرانی کے لیے جدید امیجنگ صلاحیتیں فراہم کرے گا۔

یہ سیٹلائٹ شہری منصوبہ بندی، ماحولیاتی تحفظ، قدرتی آفات سے نمٹنے، زرعی ترقی، موسمیاتی تبدیلیوں، آبی وسائل کے انتظام اور جنگلات کی کٹائی پر نظر رکھنے میں مدد دے گا۔

سپارکو کے مطابق یہ منصوبہ چائنا الیکٹرانکس ٹیکنالوجی گروپ کارپوریشن اور مائیکروسیٹ چین کے تعاون سے مکمل ہوا ہے۔ سیٹلائٹ انفراسٹرکچر مانیٹرنگ اور علاقائی منصوبہ بندی کے لیے بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔

پاکستان کے ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ کی خلا میں کامیاب تعیناتی کے بعد یہ سیٹلائٹ قدرتی آفات سے نمٹنے کی قومی کوششوں کو مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔  

سپارکو کے مطابق یہ سیٹلائٹ سیلاب، زلزلے اور زمین کھسکنے جیسے خطرات کی بروقت پیش گوئی میں مدد دے گا، جب کہ گلیشیئرز کے پگھلاؤ اور جنگلات کی کٹائی جیسے ماحولیاتی چیلنجز پر بھی مسلسل نگرانی رکھے گا۔

چیئرمین سپارکو محمد یوسف خان کا کہنا ہے کہ یہ سیٹلائٹ ملکی ترجیحات کے مطابق مختلف شعبوں میں ڈیٹا فراہم کر کے پائیدار سماجی و معاشی ترقی میں معاونت فراہم کرے گا۔

سپارکو کے مطابق سیٹلائٹ سی پیک جیسے اہم ترقیاتی منصوبوں کو بھی سپورٹ کرے گا، خاص طور پر ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس کی نقشہ سازی اور جغرافیائی خطرات کی نشاندہی کے ذریعے۔

Watch Live Public News