(ویب ڈیسک )علی رضا: چین کا بنایا ہوا واکرایس ٹو (Walker S2) ہیومنوئیڈ روبوٹ دنیا کا پہلا صنعتی روبوٹ ہے جو خود اپنی بیٹری تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے باعث یہ دن کے 24 گھنٹے اور سال کے 365 دن بغیر رُکے کام کر سکتا ہے۔
اس مہینے کے آغاز میں چینی روبوٹکس کمپنی یو بی ٹیک روبوٹکس کی جانب سے پیش کیے گئے واکر ایس ٹو نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کی ہے، کیونکہ یہ روبوٹ اپنی بیٹریاں خود بدل کر مسلسل کام جاری رکھ سکتا ہے۔ عام روبوٹس کو چارجنگ یا بیٹری کی تبدیلی کے لیے رکنا پڑتا ہے، لیکن واکر ایس ٹو میں ڈوئل بیٹری سسٹم نصب ہے جس کی مدد سے یہ ایک وقت میں ایک بیٹری خود نکال کر نئی چارج شدہ بیٹری لگا سکتا ہے، یوں یہ روبوٹ کبھی بند نہیں ہوتا۔
یو بی ٹیک روبوٹکس کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ ویڈیو میں واکرایس ٹو کو اپنی بیٹری تبدیل کرتے دکھایا گیا ہے۔ جب روبوٹ کو اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی بیٹری کمزور ہو رہی ہے، تو وہ خودکار طریقے سے بیٹری ایکسچینج اسٹیشن کی طرف جاتا ہے، اپنے بازو موڑتا ہے اور اپنی ہتھیلیوں کی مدد سے پیچھے سے بیٹری نکالتا ہے اور اسے اوپری شیلف پر رکھ دیتا ہے، پھر چارج شدہ بیٹری لگا کر دوبارہ کام پر لگ جاتا ہے۔
یہ سادہ مگر زبردست خصوصیت دو ٹانگوں والے روبوٹس میں پہلی بار دیکھی گئی ہے۔
بیٹری تبدیل کرنے کا عمل نہایت آسان، مؤثر اور چند منٹوں میں مکمل ہو جاتا ہے، جو تقریباً یہ یقینی بناتا ہے کہ روبوٹ مسلسل کام کر سکے، جب تک کہ اس کے لیے متبادل بیٹریاں دستیاب ہوں۔ بتایا گیا ہے کہ اس نظام کو چینی الیکٹرک گاڑیوں کی قابلِ تبدیل بیٹریوں سے متاثر ہو کر تیار کیا گیا ہے، جن میں وقت کی بچت کے لیے ماڈیولر بیٹریاں استعمال کی جاتی ہیں۔
واکر ایس ٹو(Walker S2)، پہلا ہیومینائیڈ روبوٹ ہے جسے خودکار طریقے سے بیٹری تبدیل کرنے کی صلاحیت دی گئی ہے۔ توقع ہے کہ اسے صنعتی تنصیبات اور پروڈکشن لائنز پر استعمال کیا جائے گا، جہاں یہ افرادی قوت کی مکمل ضرورت ختم کر دے گا۔
اگرچہ یو بی ٹیک روبوٹکس نے ابھی تک واکر ایس ٹو کے تکنیکی خدوخال ظاہر نہیں کیے، لیکن اس ہیومینائیڈ روبوٹ کے آئندہ پروڈکشن ورژن سے بڑی امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں۔