(ویب ڈیسک ) بدخشان میں طالبان رجیم مخالف مزاحمت میں تیزی آگئی، مزاحمتی گروپوں نے طالبان پر نئے حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
ریڈیو فری یورپ کے مطابق طالبان رجیم کو شمالی افغانستان میں مسلسل سکیورٹی چیلنج، بدخشان مزاحمت کا اہم مرکز بنتا جا رہا ہے۔ بدخشان میں طالبان رجیم کے خلاف گوریلا کارروائیوں میں اضافہ، طالبان رجیم کی رِٹ پر سوالات اٹھنے لگے۔
مزاحمت یفتل، زیبک، ارگو اور کشم میں طالبان کی چیک پوسٹوں، عسکری ٹھکانوں اور چوراہوں کو نشانہ بنا چکی ہے۔ مزاحمتی فورسز نے 29 جولائی کو یفتل میں طالبان کے ضلعی مرکز، پولیس ہیڈکوارٹر اور انٹیلی جنس دفتر پر قبضہ کر کے اسلحہ اور گاڑیاں اپنے قبضے میں لے لیں تھیں ۔ارگوکشم چوراہے پر 28 جولائی کو طالبان کی چیک پوسٹ راکٹ حملے کی زد میں آئی ۔
ریڈیو فری یورپ کے مطابق زیبک میں 24 جولائی کو مزاحمتی حملوں کے دوران طالبان کی متعدد چیک پوسٹیں نشانہ بنیں جبکہ کئی طالبان اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے۔طالبان کے سخت طرز حکمرانی اور مقامی آبادی میں بے چینی نے بدخشان میں مزاحمت کو نئی قوت دی
طالبان رجیم کو اب صرف پنجشیر ہی نہیں بلکہ بدخشان میں بھی مسلسل مزاحمتی دباؤ کا سامنا ہے۔ شمالی افغانستان میں بڑھتی مزاحمت طالبان کے لیے طویل المدتی سکیورٹی بحران کی نشاندہی کر رہی ہے۔ بدخشان میں مزاحمت کی نئی لہر طالبان کے خلاف بڑھتی عوامی ناراضی کی عکاس ہے۔
ریڈیو فری یورپ کے مطابق بدخشان طالبان کے خلاف مزاحمت کا تاریخی مرکز رہا ہے، نئی لہر اسی روایت کا تسلسل قرار دی جا رہی ہے۔ بدخشان میں مقامی آبادی اور طالبان رجیم کے درمیان اعتماد کا فقدان مزاحمت کو تقویت دے رہا ہے۔ معدنی وسائل پر طالبان رجیم کے کنٹرول نے مقامی سطح پر کشیدگی کو مزید بڑھا دیا۔سونے اور لاجورد کی کانوں پر کنٹرول کے تنازعات طالبان کے لیے نیا سکیورٹی چیلنج بن گئے۔ تاجک اکثریتی آبادی طالبان کی پالیسیوں سے نالاں، مزاحمت کو مقامی حمایت حاصل ہونے لگی۔