ویب ڈیسک: ایس آئی ایف سی کے قیام کے دوسرے سال میں صنعت، سیاحت اور نجکاری کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں۔دوسرے سال میں بی وائی ڈی (بِلڈ یور ڈریمز) کا پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کے لیے مقامی کمپنیوں سے اشتراک ہوا۔ ایس آئی ایف سی کے تحت صنعتی منظوری کا وقت 35 فیصد کم، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستانی سٹارٹ اپ 'بُک می' کی سعودی عرب میں توسیع، ایس آئی ایف سی کی کوششوں سے پاکستانی سیاحتی ٹیکنالوجی کے عالمی سفر کا آغاز ہوا۔ گلگت بلتستان میں 44 گیسٹ ہاؤسز کی بحالی، گرین ٹورازم کے تحت 4000 روزگار کے مواقع پیداہوئے۔سندھ میں کینجھر، گورکھ ہلز جیسے مقامات پر نجی شراکت داری سے سیاحتی ترقی کی نئی مثالیں قائم ہوئیں۔
جی سی سی سمیت 126 ممالک کیلئے ویزہ 'آن ارائیول' کی سہولت، سیاحت و سرمایہ کاری کے فروغ کی بڑی پیش رفت تھی۔ پی آئی اے کی نجکاری میں 7 بین الاقوامی کمپنیوں کی دلچسپی، سروسز میں بہتری اور آمدنی میں اضافہ ریکارڈ کیا گیال۔ڈسٹری بیوشن کمپنیز کی نجکاری کے لیے 'جی ٹو جی' ماڈل کی منظوری دی گئی۔
اسلام آباد، کراچی اور لاہور ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ کی تیاری، عالمی معیار کی سروسز کی جانب پیش رفت ہے۔ ایس آئی ایف سی نے شفافیت، بروقت فیصلوں اور سرمایہ کاری میں سہولت کے ذریعے ترقی کو نئی سمت متعین کی۔