ویب ڈیسک: سرمایہ کاروں اور مالیاتی خدمات استعمال کرنے والے صارفین کو سستا، تیز اور مؤثر انصاف فراہم کرنے کے لیے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ( ایس ای سی پی) نے ملک کے پہلے فنانشل سروسز ڈسپیوٹ ریزولوشن سینٹر (FSDRC) کے قیام کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
اس مقصد کے لیے منعقدہ مشاورتی اجلاس میں امریکی کمرشل لا ڈیولپمنٹ پروگرام (CLDP) اور سنگاپور کے فنانشل انڈسٹری ڈسپیوٹس ریزولوشن سینٹر (FIDReC) کے تعاون سے عدلیہ، قانونی ماہرین، مالیاتی شعبے کے ریگولیٹرز اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی اور اس اقدام کی حمایت کا اظہار کیا۔
ایس ای سی پی کے مطابق مجوزہ مرکز کا مقصد بینکوں، انشورنس کمپنیوں، بروکرز اور دیگر مالیاتی اداروں سے متعلق صارفین اور سرمایہ کاروں کے تنازعات کو عدالت سے باہر ثالثی اور مصالحت کے ذریعے کم لاگت، تیز رفتار اور ون ونڈو نظام کے تحت حل کرنا ہے۔
اجلاس میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان، وزارت قانون، پاکستان اسٹاک ایکسچینج، پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج، سینٹرل ڈپازٹری کمپنی، نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ، میوچل فنڈز ایسوسی ایشن، انشورنس ایسوسی ایشن آف پاکستان سمیت مختلف اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
افتتاحی خطاب میں ایس ای سی پی کے کمشنر مظفر احمد مرزا نے کہا کہ مضبوط مالیاتی نظام کے لیے صرف مؤثر ریگولیشن کافی نہیں، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات کو منصفانہ، بروقت اور کم لاگت میں حل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجوزہ مرکز مالیاتی شعبے پر عوامی اعتماد بڑھانے اور سرمایہ کاروں کو بہتر تحفظ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔