ٹیسلا کی چھوٹی اور کم قیمت الیکٹرک گاڑی کی تیاری کی خبروں سے آٹومارکیٹ میں ہلچل

ٹیسلا کی چھوٹی اور کم قیمت الیکٹرک گاڑی کی تیاری کی خبروں سے آٹومارکیٹ میں ہلچل
کیپشن: ٹیسلا کی چھوٹی اور کم قیمت الیکٹرک گاڑی کی تیاری کی خبروں سے آٹومارکیٹ میں ہلچل

ویب ڈیسک: الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کے لیے معروف کمپنی ٹیسلا کی جانب سے ایک چھوٹی اور کم قیمت الیکٹرک گاڑی تیار کرنے کی خبروں نے عالمی آٹو مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کی تازہ رپورٹ کے مطابق، ٹیسلا ایک نئی ’کومپیکٹ ایس یو وی‘ پر کام کر رہا ہے جو اس کے موجودہ ماڈل ٹیسلا ماڈل وائے سے تقریباً 20 فیصد چھوٹی اور سستی ہوگی۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کے لیے سپلائرز سے بات چیت کا آغاز ہو چکا ہے۔ مجوزہ گاڑی کی لمبائی تقریباً 4.28 میٹر (14 فٹ) ہوگی، جو ماڈل وائے کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔

ذرائع کے مطابق اس نئی گاڑی کی تیاری شنگھائی میں قائم ٹیسلا فیکٹری میں کی جائے گی، جبکہ کمپنی اس کی پیداوار کو امریکا اور یورپ تک وسعت دینے پر بھی غور کر رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور رواں سال اس کی باقاعدہ پیداوار شروع ہونے کا امکان نہیں۔

مزید بتایا گیا ہے کہ اس نئے ماڈل کی قیمت ٹیسلا کی انٹری لیول سیڈان ٹیسلا ماڈل 3 سے بھی کم رکھی جائے گی، جس کی قیمت چین میں تقریباً 34 ہزار ڈالر جبکہ امریکا میں لگ بھگ 37 ہزار ڈالر سے شروع ہوتی ہے۔

لاگت میں کمی کے لیے گاڑی میں نسبتاً چھوٹی بیٹری استعمال کی جائے گی، جس کے باعث اس کی ڈرائیونگ رینج ماڈل وائے کی 306 سے 327 میل رینج کے مقابلے میں کم ہوگی۔ اسی طرح دو الیکٹرک موٹرز کے بجائے ایک موٹر دی جائے گی اور گاڑی کا مجموعی وزن بھی کم رکھا جائے گا۔

واضح رہے کہ 2024 میں ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک نے 25 ہزار ڈالر کی سستی الیکٹرک گاڑی کا منصوبہ منسوخ کر دیا تھا اور کمپنی کی توجہ ’روبوٹیکسی‘ اور ’ہیومنائیڈ روبوٹس‘ کی جانب مرکوز کر دی تھی۔

تاہم حالیہ تجزیوں کے مطابق، دنیا بھر میں مکمل خودکار (ڈرائیور لیس) گاڑیوں کی منظوری میں تاخیر کے باعث ٹیسلا اب ایسے ماڈلز پر غور کر رہا ہے جو خودکار فیچرز کے ساتھ انسانی کنٹرول کا آپشن بھی فراہم کریں تاکہ پیداواری صلاحیت اور فروخت متاثر نہ ہو۔

دوسری جانب ٹیسلا کا کہنا ہے کہ وہ رواں ماہ اپنی دو دروازوں والی ’سائبر کیب‘ روبوٹیکسی کی پیداوار شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس میں اسٹیئرنگ وہیل اور پیڈلز موجود نہیں ہوں گے۔

تاہم نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن کے ایک ترجمان کے مطابق، کمپنی نے تاحال ایسی گاڑی کی فروخت کے لیے درکار لازمی وفاقی استثنیٰ کے حصول کی درخواست جمع نہیں کرائی۔

Watch Live Public News