ویب ڈیسک: وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ ملک میں فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کا عمل قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے، جب کہ متعلقہ اداروں سے منظوری کا انتظار جاری ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ٹیلی نار اور پی ٹی سی ایل کے ممکنہ انضمام کے معاملے پر ابھی تک مسابقتی کمیشن آف پاکستان (CCP) کی منظوری نہیں ملی، جس کے بغیر نیلامی کی کارروائی کو آگے بڑھانا ممکن نہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ مسابقتی کمیشن ایک خودمختار ادارہ ہے جو آزادانہ فیصلے کرتا ہے، لہٰذا اس کے معاملات میں حکومتی مداخلت ممکن نہیں۔ تاہم، متعلقہ حکام کی جانب سے معاملے پر باقاعدہ فیڈبیک لیا جا رہا ہے تاکہ پیش رفت ممکن ہو سکے۔
شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ وزارت آئی ٹی نے وزیر خزانہ سے اسپیکٹرم آکشن کمیٹی کے اجلاس کے انعقاد کی درخواست کر دی ہے، اور اب جب کہ بجٹ سیشن ختم ہو چکا ہے، کمیٹی اجلاس جلد منعقد ہونے کی امید ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ فائیو جی نیلامی کے لیے ایک تھرڈ پارٹی کنسلٹنسی فرم کی خدمات حاصل کی گئی تھیں، جس نے اپنی رپورٹ مکمل کر لی ہے۔ یہ رپورٹ آئندہ کمیٹی اجلاس میں پیش کی جائے گی، جہاں نیلامی کے وقت اور طریقہ کار پر فیصلہ متوقع ہے۔
وفاقی وزیر نے امید ظاہر کی کہ موجودہ رکاوٹیں جلد دور ہو جائیں گی اور پاکستان میں فائیو جی کی آمد کا خواب جلد حقیقت بنے گا، جو ملک کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے ایک بڑا سنگ میل ثابت ہوگا۔