ویب ڈیسک: 16 جون 2026 کو کشمیر کلچرل سینٹر کے صدر اور ویانا اکیڈمی آف ایجوکیشن کے ڈائریکٹر نعیم خان (پاکستانی نژاد کشمیری) کی جانب سے ویانا اکیڈمی آف ایجوکیشن میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا؛ جس کا بنیادی مقصد آزاد جموں و کشمیر میں 'جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی' (JKAAC) کی جاری تحریک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا تھا۔
نعیم خان کی جانب سے ویانا میں منعقدہ تقریب جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی خود ساختہ بدامنی کو ہتھیار بنا کر عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کی ایک ناکام کوشش تھی۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی عوامی فلاح و بہبود کے اپنے اصل مطالبات سے ہٹ کر اب ایک ایسا سیاسی آلہ کار بن چکی ہے جو آزاد کشمیر میں سیاسی استحکام کو سبوتاژ کر رہا ہے۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت جھوٹے مسائل گھڑ کر مقامی عوام کو گمراہ کر رہی ہے تاکہ آزاد کشمیر کو پاکستان سے الگ کرنے کے دیرینہ بھارتی خواب کو پورا کیا جا سکے۔
پاکستان نے عوامی مفاد کے 90 فیصد جائز مطالبات پہلے ہی تسلیم کر لیے ہیں، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مسلسل احتجاج خالصتاً سیاسی مقاصد پر مبنی اور بدنیتی پر منحصر ہے۔ حکومت کی جانب سے مطالبات کی منظوری کے باوجود جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا ہٹ دھرمی برقرار رکھنا اسے بیرونی آقاؤں کا ترجمان ثابت کرتا ہے جن کا مقصد کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کو مسخ کرنا ہے۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا جاری احتجاج دراصل مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم سے توجہ ہٹانے اور کشمیریوں کی تحریکِ آزادی کو کمزور کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔