(ویب ڈیسک ) بجٹ 2025-26 میں تنخواہ دار طبقے کو بڑا ریلیف اور سرکاری ملازمین کو خوشخبری ملنے کا امکان ہے۔
آئندہ مالی سال 2025-26 کے وفاقی بجٹ میں حکومت کی جانب سے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کی تیاریاں جاری ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس کی شرح میں کمی، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے اور مختلف شعبہ جات کے لیے ریلیف اقدامات کی تجاویز دی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق انکم ٹیکس سلیبز میں 2.5 فیصد تک کمی کی تجاویز زیر غور ہیں۔جس کے مطابق 1 لاکھ روپے کمانے والوں پر انکم ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے کم کر کے 2.5 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ جبکہ1 لاکھ 83 ہزار روپے ماہانہ آمدنی والوں کے لیے انکم ٹیکس 15 فیصد سے کم ہو کر 12.5 فیصد ہونے کا امکان ہے۔
نئی تجاویز کے مطابق 2 لاکھ 67 ہزار روپے ماہانہ آمدنی والوں پر انکم ٹیکس 25 فیصد سے کم کر کے 22.5 فیصد کرنے کی تجویز ہےاور 3 لاکھ 33 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ والوں پر ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کر کے 27.5 فیصدکیے جانے کا امکان ہے۔
اس کے علاوہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اجاضہ تجویز کیا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ان تجاویز پر تفصیلی بات چیت ہو چکی ہے اور آئی ایم ایف کا ابتدائی ردعمل مثبت رہا ہے۔لیکن آئی ایم ایف نے ریلیف دینے کے بدلے متبادل ریونیو پلان کی شرط عائد کی ہے، جس پر حکومت کی معاشی ٹیم نے بریفنگ بھی دی ہے۔
خیال رہے کہ بجٹ تجاویز کی حتمی منظوری وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر میں دی جائے گی، جو رواں ماہ کے وسط میں پیش کی جائے گی۔