ویب ڈیسک: طویل ہیٹ ویو، نارمل سے زیاد درجہ حرارت اور حبس جیسی صورتحال آئندہ موسم گرما میں متوقع ہے۔
اقوام متحدہ کے ورلڈ میٹرولاجیکل ڈیپارٹمنٹ کی ویب سائٹ پر موجود معلومات کے مطابق سال 2023 اور 24 کے بعد 2025 ممکنہ طور پر گرم ترین سال ہو گا۔
سال 2024 کو اقوام متحدہ نے گرم ترین سال قرار دیا تھا جب درجہ حرات صنعتی دور کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سیلسیس بڑھ گیا تھا۔
ورلڈ میٹرولاجیکل ڈیپارٹمنٹ کی ترجمان کلیئر نولیس نے کہا تھا کہ 2024 میں زمین اور سمندروں کے درجہ حرارت میں غیرمعمولی اضافہ ہوا اور دنیا بھر میں زندگیاں، ذریعہ معاش، خواب اور امیدیں تباہ ہو گئیں.
سال 2024 ایک غیرمعمولی سال تھا اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات گلیشیئرز پر بھی نظر آئے جن کے پگھلنے کی وجہ سے قریبی آبادیوں کو نقصان پہنچا تھا۔
تاہم رواں سال کے بارے میں اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ریکارڈ شدہ تاریخ کے مطابق یہ جنوری گرم ترین تھا۔
دوسری جانب میڈیا رپورٹ کے مطابق رواں فروری گرم ترین تھا۔ فروری کی راتیں بھی گرم تھیں اور نارمل سے زیادہ درجہ حرارت کے باعث دھند بھی نہیں پڑی۔
ویدر ڈاٹ کام نےموسم گرما کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں درجہ حرارت نارمل سے زیادہ رہے گا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کشمیر ،لاہور اور راولپنڈی سمیت پنجاب کے اکثر علاقوں میں جبکہ تھرپارکر،اندرون سندھ اور خیبرپختونخوا میں بھی مارچ سے مئی کے دوران گرم ترین دنوں کا سامنا رہے گا۔