وفاقی آئینی عدالت کا سرداری نظام اور شناختی دستاویزات کی تصدیق پر بڑا فیصلہ

وفاقی آئینی عدالت کا سرداری نظام اور شناختی دستاویزات کی تصدیق پر بڑا فیصلہ

(ویب ڈیسک  ): وفاقی آئینی عدالت  کا فیصلے میں کہنا ہے کہ  قبائلی سردار شناختی کارڈ اور ڈومیسائل کی تصدیق کے اہل نہیں،  شناختی کارڈ، ڈومیسائل کا اجراء باقاعدہ قانون کے مطابق کیا جاتا ہے۔ 

آئینی عدالت کے جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے 12 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کر دیا  ہے۔ بلوچستان کے خروٹی قبیلے کے سردار غلام علی نے بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کی تھی۔

وفاقی آئینی عدالت  کے مطابق   شناختی دستاویزات کی تصدیق کیلئے قانون میں مجاز حکام کو ہی اختیار دیا گیا ہے۔ فیصلہ  کے مطابق کسی قبائلی سردار کو قانون سے ہٹ کر دستاویزات کی تصدیق کا اختیار نہیں دیا جا سکتا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت  کا  مزیدکہنا ہے کہ قانون کے مطابق سرداری نظام 1976 میں ختم ہوچکا ہے  جبکہ قبائل کے سرداری نظام علاقائی روایت ہے اسکی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ 

وفاقی آئینی عدالت نےفیصلہ میں کہا کہ  علاقائی روایت کی عدالتی توثیق نہیں کی جا سکتی   اور   درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں اس لئے اپیل قابل سماعت نہیں ہے۔  درخواست گزار غلام علی کے مطابق وہ خروٹی قبیلے کا سردار ہے۔ 

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق اس کے قبیلے کے افراد کیلئے دستاویزات کی تصدیق کروانا ناممکن عمل ہے۔ شناختی دستاویزات سے محروم کیا گیا متاثرہ شخص ہی عدالت سے رجوع کرنا کا اہل ہے۔ 

Watch Live Public News