ویب ڈیسک:ملکی ہنر مند افراد اور کمپنیوں کو باہر کے ممالک میں جاکر کاروبار کرنے سے روکنے کے لئے اہم تجاویز پیش، وزیراعظم شہباز شریف نے حکام کو ہدایت کی جائزہ لیتے ہوئے آمدنی اور سیلز ٹیکس کی بلند شرحوں میں کمی کی جائے تاکہ ایسے افراد اور کمپنیوں کو سرمایہ کاری کرنے لئے لئے ملک کے اندر ہی ساز گار ماحول فراہم کیا جائے۔
تفصیلات کے مطابق حکومت ایک نئی معاشی تجویز پر غور کر رہی ہے جس کے ذریعے 1.1 کھرب روپے ملکی معیشت میں شامل کرنے کا منصوبہ ہے، تاکہ کاروباری طبقے اور عام شہریوں پر ٹیکسوں کا بوجھ کم ہو۔
پیش کی گئی تجاویز کے مطابق’ انکم ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ شرح 45 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کرنے پر غور ہے، کارپوریٹ ٹیکس 29 فیصد سے گھٹا کر 25 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی۔
10 فیصد سپر ٹیکس ختم کرنے کا منصوبہ زیرِ غور ہے، سیلز ٹیکس کی شرح 18 فیصد سے گھٹا کر 15 فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے جبکہ انٹر کارپوریٹ ڈیویڈنڈ ٹیکس بھی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
حکومتی ماہرین کا کہنا ہے کہ انتہائی زیادہ ٹیکس شرحیں کاروباروں کو نقصان پہنچا رہی ہیں، جس کے باعث بہت سی کمپنیاں ملک چھوڑ رہی ہیں اور ہنرمند افراد بیرون ملک روزگار کی تلاش میں جا رہے ہیں۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق کئی کاروبار ادارے اپنی خالص آمدنی کا تقریباً 60 فیصد مختلف ٹیکسوں کی صورت میں ادا کرتے ہیں، اور اس کے باوجود انہیں ایڈوانس ٹیکس بھی جمع کرانا پڑتا ہے۔
سب سے زیادہ متاثر تنخواہ دار طبقہ ہوا ہے۔ گزشتہ مالی سال میں تنخواہوں پر وصول کیا جانے والا ودہولڈنگ ٹیکس 55 فیصد بڑھ کر 605.6 ارب روپے تک جا پہنچا۔
دوسری جانب ایف بی آر نے جولائی تا اکتوبر 3.83 کھرب روپے اکٹھے کیے، جو 4.1 کھرب روپے کے ہدف سے کم ہیں۔ انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکے، البتہ کسٹمز ڈیوٹی میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔
آئی ایم ایف پہلے ہی سالانہ ٹیکس ہدف میں 197 ارب روپے کی کمی کر چکا ہے، اب تک 5.9 ملین افراد نے ٹیکس ریٹرن فائل کیے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17.6 فیصد زیادہ ہیں، تاہم یہ اب بھی 7.8 ملین کے سابقہ ریکارڈ سے کم ہیں۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیراعظم نے ایک ورکنگ گروپ قائم کر دیا ہے جو کسٹم ٹیرف، تجارتی مسائل اور ڈمپنگ سے متعلق تجاویز پر کاروباری برادری کے ساتھ مشاورت کرے گا۔