ویب ڈیسک: پنجاب اور خیبرپختونخوا میں موسم گرما کی طویل تعطیلات کے بعد سرکاری اور نجی سکولز دوبارہ کھل گئے ہیں، تاہم لاہور سمیت سیلاب سے متاثرہ کئی اضلاع میں تعلیمی سرگرمیاں تاحال معطل ہیں۔
لاہور میں ضلعی انتظامیہ نے سیلابی صورتحال کے پیش نظر 45 سرکاری سکول بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بند رہنے والے اداروں میں چوہنگ، موہلنوال ملتان روڈ، موڑ فرخ آباد اور ریٹیگن روڈ کے سرکاری سکول شامل ہیں۔ اسی طرح سینٹرل ماڈل سکول ریٹیگن روڈ، مراکہ، مانگا، شاداب کالونی، سگیاں، تار گڑھ شاہدرہ، بند روڈ اور پری محل شاہدرہ کے سکول بھی تا حکم ثانی بند رہیں گے۔
مزید برآں شفیق آباد، ٹھوکر نیاز بیگ، شاہ پور کانجراں، گاؤں شالا، رنگیل پور، خورد پور، چھگیاں بھمہ اور موہلنوال کے سکول بھی متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں، جہاں تعلیمی سرگرمیاں آئندہ حکومتی ہدایات تک معطل رہیں گی۔ اس کے ساتھ مانوال، قلعہ تراڑ، مصطفیٰ آباد، ملک پارک، عزیز کالونی اور مانگا ہیٹھاڑ کے سکول بھی بند کر دیے گئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے (پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی) کے مطابق یکم سے 7 ستمبر تک دریاؤں میں شدید طغیانی کا خدشہ ہے جس کے باعث سیلاب زدہ علاقوں میں تعلیمی اداروں کو ریلیف کیمپس اور انتظامی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ محکمہ تعلیم پنجاب نے شدید گرمی کے باعث سکولوں کو 28 مئی سے بند کر دیا تھا، بعد ازاں خراب موسم کے باعث تعطیلات میں 31 اگست تک توسیع کر دی گئی۔ تاہم سیلاب کی موجودہ صورتحال نے کئی علاقوں میں بچوں کو تعلیمی سرگرمیوں سے مزید محروم کر دیا ہے۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا کے میدانی علاقوں میں موسم گرما کی چھٹیاں ختم ہوتے ہی سکولز اور کالجز کھل گئے ہیں۔ پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بچوں نے معمول کی کلاسز کا آغاز کر دیا ہے اور تعلیمی اداروں میں سرگرمیاں بحال ہو گئی ہیں۔
ادھر لاہور ڈویژن میں 20 کالجز دو روز کے لیے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر کالجز لاہور احسان مختار کے مطابق یکم اور 2 ستمبر کو 6 لاہور ڈسٹرکٹ سمیت دیگر کالجز بند رہیں گے تاکہ متاثرہ علاقوں میں سیلاب سے متعلق انتظامی سرگرمیوں میں سہولت دی جا سکے۔