ویب ڈیسک: ناسا کا آرٹیمس 2 راکٹ امریکی ریاست فلوریڈا سے تاریخی مشن پر روانہ ہو گیا، جو پچاس سال بعد انسانوں کو دوبارہ چاند کے قریب لے جائے گا۔
چار خلا بازوں پر مشتمل عملہ دس روزہ مشن کے دوران تقریباً چھ لاکھ پچاسی ہزار میل کا سفر طے کرتے ہوئے چاند کے گرد چکر لگائے گا اور پھر زمین پر واپس آئے گا۔
یہ مشن چاند پر لینڈنگ نہیں کرے گا، تاہم اس میں کرسٹینا کوچ (پہلی خاتون)، وکٹر گلوور (پہلے سیاہ فام خلا باز) اور جیریمی ہینسن (پہلے غیر امریکی) سمیت عملہ ڈیپ سپیس کا سفر کرے گا۔
واضح رہے کہ آرٹیمس 2 مشن کو انسانی خلائی تحقیق میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے قبل آخری مرتبہ 1972ء میں اپالو پروگرام کے تحت انسان چاند تک پہنچا تھا۔
اس مشن کا مقصد نہ صرف خلا بازوں کو چاند کے مدار تک لے جانا ہے بلکہ مستقبل میں چاند پر انسانی قیام کی راہ ہموار کرنا بھی ہے۔
مشن کے دوران خلا باز چاند کے گرد چکر لگاتے ہوئے مختلف سائنسی مشاہدات کریں گے اور جدید خلائی ٹیکنالوجی کا تجربہ کیا جائے گا، جو آئندہ آرٹیمس 3 مشن کے لیے بنیاد فراہم کرے گا، جس کے تحت انسان کو دوبارہ چاند کی سطح پر اتارنے کا منصوبہ ہے۔
ناسا حکام کے مطابق یہ مشن نہ صرف امریکا بلکہ پوری دنیا کے لیے اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس سے خلائی تحقیق کے نئے دروازے کھلیں گے اور مستقبل میں مریخ سمیت دیگر سیاروں تک رسائی کے امکانات بھی بڑھیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آرٹیمس پروگرام انسانیت کے لیے ایک نئے خلائی دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے، جس کے ذریعے چاند کو ایک مستقل تحقیقاتی مرکز کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا۔