ویب ڈیسک: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ سمیت 8 مسلم ممالک نےجمعرات کے روز مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کے قانون کی منظوری کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام " علاقائی استحکام" کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
یہ مشترکہ بیان سعودی عرب، مصر، اردن، انڈونیشیا، پاکستان، قطر، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ "یہ قانون ایک خطرناک اضافہ ہے، خاص طور پر اس کے امتیازی اطلاق کے باعث جو فلسطینی قیدیوں کے خلاف کیا جا رہا ہے، اور اس طرح کے اقدامات کشیدگی میں مزید اضافہ اور علاقائی استحکام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔"
اسرائیلی پارلیمنٹ کی جانب سے پیر کو منظور کیے گئے اس قانون کے تحت وہ فلسطینی جو فوجی عدالتوں میں مہلک حملوں، جنہیں "دہشت گردی" قرار دیا گیا ہو، میں مجرم ٹھہرائے جائیں گے، انہیں سزائے موت دی جا سکے گی۔
اس قانون پر اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے بھی تنقید کی ہے، جبکہ امریکا نے اسرائیل کے "اپنے قوانین بنانے کے خودمختار حق" کی حمایت کی ہے۔
نئے قانون کے مطابق مغربی کنارے میں رہنے والے فلسطینیوں کے مقدمات اسرائیلی فوجی عدالتوں میں چلائے جاتے ہیں، جس کے باعث یہ اقدام ایک علیحدہ اور زیادہ سخت قانونی نظام قائم کرتا ہے۔
اس کے برعکس اسرائیلی سول عدالتوں میں ایسے جرائم پر سزائے موت یا عمر قید، دونوں میں سے کسی ایک کا اختیار موجود ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے اپنی تاریخ میں صرف دو بار سزائے موت پر عمل کیا ہے: پہلی بار 1948 میں ایک فوجی افسر کو سنگین غداری کے جرم میں، اور دوسری بار 1962 میں نازی جنگی مجرم ایڈولف آئخمان کو پھانسی دی گئی تھی۔
یاد رہے کہ اسرائیل 1967 سے مغربی کنارے پر قابض ہے، اور 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے جنوبی اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہونے والی غزہ جنگ کے نتیجے میں اس علاقے میں تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔