ویب ڈیسک: سنگاپورحکومت نے سیکنڈری اسکولوں میں اسمارٹ فون کے استعمال پر کنٹرول مزید سخت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 2026 سے طلبہ کو پورے اسکول ٹائم کے دوران اپنے موبائل فون اور اسمارٹ واچز لاکرز یا اپنے بستوں میں بند رکھنا ہوں گے۔
نئی پالیسی کے مطابق پابندی صرف کلاس روم تک محدود نہیں ہوگی، بلکہ یہ وقفے، ہم نصابی سرگرمیوں اور ری میڈیئل کلاسز کے دوران بھی نافذ رہے گی۔ وزارتِ تعلیم نے واضح کیا ہے کہ ضرورت کی صورت میں اسکول انتظامیہ استثنا دے سکتی ہے، تاہم عمومی طور پر پورے اسکول کے اوقات میں ڈیوائس کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد طلبہ کی توجہ میں بہتری، صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینا اور ضرورت سے زیادہ اسکرین ٹائم کے منفی اثرات سے بچانا ہے۔ تحقیق کے مطابق طویل اسکرین استعمال بچوں کی نیند، جسمانی سرگرمی اور سماجی میل جول کو متاثر کرتا ہے۔
نیند کے اوقات میں بھی تبدیلی
حکومت نے اعلان کیا ہے کہ طلبہ کو دیے گئے ڈیوائسز میں ’ سلیپ آورز‘ کی ڈیفالٹ ٹائمنگ جنوری سے تبدیل کر دی جائے گی۔ نیا وقت 11 بجے کے بجائے 10 بجکر 30 منٹ مقرر کیا گیا ہے۔ وزارتِ تعلیم نے والدین سے بھی اس نئے شیڈول کی پابندی کی اپیل کی ہے۔
عالمی رجحان کے مطابق اقدام
سنگاپور کا یہ فیصلہ عالمی رجحان کا حصہ ہے جہاں بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر تعلیمی ادارے موبائل فون استعمال پر سختی کر رہے ہیں۔ یونیسکو کے مطابق دنیا بھر میں 40 فیصد تعلیمی نظام اسکولوں میں اسمارٹ فون پر جزوی یا مکمل پابندی نافذ کر چکے ہیں۔
دوسری جانب آسٹریلیا اگلے ہفتے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے ملک گیر سطح پر سوشل میڈیا استعمال پر پابندی نافذ کرنے جا رہا ہے، جو عالمی سطح پر اپنی نوعیت کی پہلی مثال قرار دی جا رہی ہے۔