ویب ڈیسک: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے امریکی قونصل جنرل تھامس ایکرٹ نے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں اہم ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، معدنیات، توانائی اور سکیورٹی تعاون سمیت انسدادِ دہشت گردی اور انسدادِ منشیات کے شعبوں میں مشترکہ اقدامات پر بھی گفتگو ہوئی۔
امریکی قونصل جنرل تھامس ایکرٹ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی سفارتکاری امریکی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور اقتصادی سفارتکاری میں اضافہ مجموعی امن و استحکام کو مزید فروغ دے گا۔ ان کے مطابق معدنیات اور توانائی کے شعبے میں شراکت داری دونوں فریقین کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بتایا کہ خیبر پختونخوا منرلز ایکٹ کے تحت مقامی آبادی کو سرمایہ کاری میں اوّلین ترجیح حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ایسی نجی سرمایہ کاری کی مکمل حوصلہ افزائی کر رہی ہے جس سے مقامی لوگوں کو براہ راست فائدہ پہنچے۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ عوامی مفاد حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور صوبہ سستی و صاف توانائی کے حصول کے لیے چھوٹے پن بجلی گھروں اور ڈیموں پر کام کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 9/11 کے بعد دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثر ہوا، تاہم اب حکومت انفرااسٹرکچر، ادارہ جاتی مضبوطی اور استعداد کار میں بہتری پر فوکس کر رہی ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع میں موجود نایاب معدنی ذخائر سے مقامی آبادی کو براہ راست فائدہ پہنچایا جائے گا، تاکہ خطے میں ترقی اور معاشی سرگرمیوں کو تیز کیا جا سکے۔