ویب ڈیسک: معروف یوٹیوبر رجب بٹ حملہ کیس کا معاملہ، وکلاء میں ہونے والی بحث و تکرار نے نیا رخ اختیار کرلیا۔
پنجاب بار کونسل کی جانب سے میاں علی اشفاق کا لائسنس معطل ہونے کے بعد، فریقین میں قانونی جنگ شروع ہوگئی۔
سندھ بار کونسل میں رجب بٹ کے وکیل اور دیگر وکلاء کی جانب سے دو الگ الگ درخواستیں دائر کردی گئیں۔
بیرسٹر میاں علی اشفاق نے ایڈووکیٹ ریاض سولنگی اور عبد الفتاح چانڈیو کے خلاف درخواست جمع کرادی، 15 دیگر وکلاء نے بھی سٹی کورٹ میں سائلین پر حملے کے خلاف سندھ بار کونسل میں درخواست دے دی۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ سٹی کورٹ میں سائلین کے ساتھ مارکٹائی سے وکلاء کی پوزیشن خراب ہورہی ہے، سندھ بار کونسل کی خاموشی سے ادارے کو نقصان ہورہا ہے۔
جوڈیشری سسٹم اور بار کی عزت کی بحالی انتہائی ضروری ہے، 29 دسمبر کو سٹی کورٹ معاملے کی تحقیقات کی جائے اور ہونے والے واقعات کو روکا جائے۔
میاں علی اشفاق کا کہنا تھا کہ ہمارے موکل رجب بٹ پر تشدد کیا گیا یہ انصاف کے تقاضوں کیخلاف ہے، وکیل ریاض سولنگی عبدالفتاح چانڈیو نے قانون اور بار کی روایت کے خلاف کام کیا ہے،کاروائی کی جائے۔
سندھ بار کونسل کے وقتی سیکریٹری نے دونوں درخواستیں وصول کرکے کاپی دے دی، درخواستیں جمع ہونے کے بعد سندھ بار کونسل جائزہ لے کر خلاف ضابطہ واقعات پر کارروائی کرسکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ وکیل ریاض سولنگی اور فتاح چانڈیو سمیت زیرالزام وکلاء کے لائسنس بھی معطل ہونے کا امکان ہے۔