ویب ڈیسک: (علی زیدی) تبت کے روحانی پیشوا دلائی لاما نے اعلان کیا ہے کہ ان کے بعد بھی دلائی لاما کا عہدہ برقرار رہے گا اور ان کا ایک جانشین ضرور مقرر کیا جائے گا۔ یہ اعلان بدھ کے روز ان کی 90 ویں سالگرہ کی تقریبات کے دوران سامنے آیا، جب دنیا بھر سے بدھ مت کے پیروکار اور مذہبی رہنما بھارتی شہر دھرم شالہ کے علاقے میکلوڈ گنج میں جمع تھے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق دلائی لاما کا کہنا تھا کہ تبت کے تمام روحانی مکاتبِ فکر، جلا وطن حکومت اور دنیا بھر کے بدھ مت کے ماننے والوں کی درخواست پر وہ اس عہدے کو جاری رکھنے کی تصدیق کر رہے ہیں۔
"مجھے یقین ہے کہ میں نے اپنے فرائض ادا کیے اور میں مستقبل میں بھی کرونگا۔ میں جسمانی طور پر تندرست ہوں اور اس عہدے پرکام کرتا رہوں گا،" انہوں نے خوش و خرم ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔
اگلا دلائی لاما کہاں پیدا ہوگا؟
دلائی لاما نے اپنی حالیہ کتاب Voice for the Voiceless (مارچ 2025) میں یہ اشارہ دیا ہے کہ ان کا جانشین کسی آزاد ملک میں پیدا ہوگا، جس کا مطلب ہے کہ وہ چین یا چین کے زیرِ انتظام تبت میں پیدا نہیں ہوگا۔ اس سے قبل وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ان کا ممکنہ جانشین بھارت میں بھی جنم لے سکتا ہے۔
دلائی لاما کیسے چُنا جاتا ہے؟
دلائی لاما کو "اوالوکیتیشورا" (ہمدردی کے بودھی ستوا) کا روپ سمجھا جاتا ہے۔ روایتی طور پر دلائی لاما کی وفات کے بعد اعلیٰ سطحی لاماؤں کی ایک ٹیم نئے دلائی لاما کی تلاش کا آغاز کرتی ہے، جس میں روحانی اشارے، خواب، مقدس جھیل "لہامو لا تسو" کے مشاہدات اور دیگر علامات شامل ہوتی ہیں۔
منتخب ہونے والا بچہ عام طور پر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب موجودہ دلائی لاما کا انتقال ہوتا ہے۔ بعد ازاں اسے سخت مذہبی تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ روحانی اور تاریخی طور پر سیاسی قیادت کے لیے تیار ہو سکے۔
کیا دو دلائی لاما ہو سکتے ہیں؟
دلائی لاما نے خود بھی 2019 میں کہا تھا کہ ان کے بعد دو دلائی لاما ہو سکتے ہیں:
ایک جو آزاد دنیا میں لاماؤں کے مشورے سے مقرر کیا جائے
دوسرا جو چینی حکومت کی مرضی سے تبت میں مقرر ہو
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ "اگر ایک دلائی لاما آزاد ملک سے آئے اور دوسرا چین کے ذریعے چُنا جائے، تو دنیا کس پر بھروسا کرے گی؟ ظاہر ہے چین والے کو کوئی تسلیم نہیں کرے گا۔"
چین کی سخت مخالفت
چین کا اصرار ہے کہ صرف چینی حکومت کو دلائی لاما کے جانشین کی منظوری کا اختیار حاصل ہے۔ 2007 میں چین نے ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت تبت میں پیدا ہونے والے تمام مذہبی رہنماؤں کی تصدیق ریاست کرے گی۔ چین دلائی لاما کی کسی بھی غیر ملکی تقرری کو "غیر قانونی" قرار دیتا ہے۔
چینی حکام چاہتے ہیں کہ اگلا دلائی لاما چینی سرزمین پر پیدا ہو اور اس کا انتخاب 'گولڈن ارن' کے ذریعے ہو — ایک قدیم قرعہ اندازی کا طریقہ۔ موجودہ دلائی لاما اس طریقے کو ناقابلِ قبول قرار دے چکے ہیں۔
1995 میں پنچن لاما کا تنازع
1995 میں دلائی لاما نے ایک چھ سالہ لڑکے "گیڈن چوکئی نیما" کو پنچن لاما (تبت میں دوسرا بڑا روحانی عہدہ) قرار دیا تھا۔ چین نے فوراً اس بچے اور اس کے خاندان کو غائب کر دیا اور اپنی مرضی سے ایک اور پنچن لاما مقرر کر دیا، جسے تبت اور دنیا بھر کے بدھ مت کے ماننے والوں نے مسترد کر دیا۔

یہ واقعہ تبت میں مذہبی آزادی کی علامت سمجھا جاتا ہے، اور اسی وجہ سے دلائی لاما اور جلا وطن بدھ راہب اگلا دلائی لاما چین کے اثر سے باہر چُننا چاہتے ہیں۔
جغرافیائی سیاست میں دلائی لاما کی اہمیت
دلائی لاما کا انتخاب صرف مذہبی معاملہ نہیں بلکہ سفارتی اور جغرافیائی اثرات کا حامل ہے، خاص طور پر بھارت، امریکہ اور چین کے لیے:
بھارت دلائی لاما کو 1959 سے پناہ دیے ہوئے ہے اور تبت کی جلا وطن حکومت کی میزبانی کرتا ہے۔
امریکہ نے 2020 میں "ٹیبٹ پالیسی اینڈ سپورٹ ایکٹ" منظور کیا تھا، جس کے تحت دلائی لاما کو اپنی جانشینی کا حق حاصل ہے، اور چین کی مداخلت کی صورت میں پابندیوں کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔
چین دلائی لاما کو علیحدگی پسند قرار دیتا ہے اور ان کی عالمی مقبولیت کو اپنی سالمیت کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔
روحانیت، سیاست اور طاقت کا تصادم
دلائی لاما کے بعد کے دور میں نہ صرف مذہبی قیادت بلکہ تبت کی شناخت، چین کا اثر، اور عالمی طاقتوں کا کردار سب ایک نئے مرحلے میں داخل ہوں گے۔ دلائی لاما کی جانشینی اب صرف ایک مذہبی سوال نہیں بلکہ ایک سفارتی آزمائش بن چکی ہے — جس پر دنیا کی نظریں جمی ہیں۔