ویب ڈیسک: دنیا کی معروف مصنوعی ذہانت (AI) کمپنی 'انتھراپک' کے سی ای او داریو ایموڈے نے خبردار کیا ہے کہ تیزی سے ترقی کرتی AI ٹیکنالوجی آنے والے چند برسوں میں عالمی سطح پر بےروزگاری میں شدید اضافہ کر سکتی ہے، اور دنیا کے سیاستدان اور کاروباری رہنما اس کے لیے تیار نہیں۔
سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایموڈے کا کہنا تھا کہ "AI اب تقریباً تمام ذہنی کاموں میں انسانوں سے بہتر ہونے لگی ہے، اور ہمیں اجتماعی طور پر اس حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا۔"
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگلے ایک سے پانچ سال میں AI تقریباً آدھے ابتدائی سطح کے وائٹ کالر ملازمتوں کو ختم کر سکتی ہے اور اس کے نتیجے میں امریکہ میں بےروزگاری کی شرح 20 فیصد تک پہنچ سکتی ہے — جو کہ کووڈ-19 کے عروج پر دیکھے جانے والے اعداد و شمار کے قریب ہے۔
خطرہ صرف کم تنخواہ والی ملازمتوں کو نہیں
روایتی طور پر ٹیکنالوجی نے معمولی اور کم تنخواہ والی نوکریوں کو متاثر کیا، لیکن ایموڈے کا کہنا ہے کہ AI اس بار اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی ملازمتوں کو بھی متاثر کرے گی — مثلاً اکاؤنٹنٹس، پروگرامرز، مالیاتی مشیر، اور قانونی معاونین۔
انہوں نے ایک انٹرویو میں تجویز دی کہ اگر AI سے بڑی دولت پیدا ہوتی ہے، تو حکومتوں کو AI کمپنیوں پر خصوصی ٹیکس عائد کرنے پر بھی غور کرنا چاہیے، تاکہ اس دولت کا کچھ حصہ عام لوگوں تک بھی پہنچ سکے۔
انہوں نے کہا کہ "یہ میرے مالی مفاد میں نہیں، لیکن یہ ایک قومی سطح کا سنجیدہ مسئلہ ہے، جس پر سیاست سے بالاتر ہو کر سوچنے کی ضرورت ہے۔"
AI روزگار کو سہارا دے گی یا چھین لے گی؟
حالیہ ہفتوں میں انتھراپک نے ایک نیا AI ماڈل متعارف کرایا ہے جو سات گھنٹے تک لگاتار کام کر سکتا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ 60 فیصد صارفین اس ٹیکنالوجی کو انسانی کام کی معاونت کے لیے جبکہ 40 فیصد اسے مکمل آٹومیشن کے لیے استعمال کر رہے ہیں — اور آٹومیشن کا تناسب مسلسل بڑھ رہا ہے۔
دوسری جانب، بعض ماہرین کا خیال ہے کہ AI مکمل ملازمتوں کو نہیں بلکہ صرف ان کے کچھ حصے خودکار بنائے گی، جس سے انسانوں کے پاس زیادہ تخلیقی اور مشکل کاموں کے لیے وقت بچے گا۔
دنیا بھر میں تیاری کی ضرورت
ورلڈ اکنامک فورم کی ایک رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر کے 41 فیصد آجروں کا کہنا ہے کہ وہ 2030 تک AI کی وجہ سے اپنی ورک فورس کو کم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
یونیورسٹی آف ورجینیا کے ماہر اقتصادیات اینٹن کورینک کے مطابق "لوگ خود کو یہ کہہ کر تسلی دیتے ہیں کہ 'نئی ٹیکنالوجی نئے روزگار پیدا کرتی ہے' — لیکن اس بار مشینیں وہ نئے روزگار بھی ہم سے پہلے سیکھ سکتی ہیں۔"
ایموڈے: "بس کو روکا نہیں جا سکتا، مگر سمت بدلی جا سکتی ہے"
داریو ایموڈے کا کہنا ہے کہ وہ یہ انتباہ صرف عوامی فلاح کے لیے دے رہے ہیں۔"مجھے معلوم ہے کہ ہم اس ٹیکنالوجی کو روک نہیں سکتے، لیکن شاید اس کی سمت درست کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔"
ماہرین کا خیال ہے کہ ایموڈے کی جانب سے یہ پیش گوئی نہ صرف حقیقت پسندی ہے بلکہ برانڈ ساکھ اور پالیسی اثرات کی حکمت عملی بھی ہو سکتی ہے — تاکہ مستقبل میں کمپنی یہ کہہ سکے کہ انہوں نے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا۔