(ویب ڈیسک ) بانی پاکستان تحریک انصاف کے خلاف 10 ارب ہرجانے کے کیس میں وزیر اعظم شہباز شریف بذریعہ ویڈیو لنک لاہور کی سیشن عدالت میں پیش ہو گئے۔
عدالت نے وزیر اعظم شہباز شریف سے سوال کیا کہ کیا آپ نے بانی پی ٹی آئی کا داخل کروایا گیا جواب دعویٰ پڑھا ہے؟جس پر انہوں نے کہا کہ میں نے بانی پی ٹی آئی کا جواب دعویٰ نہیں پڑھا، اس وقت بند کمرے میں ویڈیو لنک پر شہادت دے رہا ہوں، میرے وکیل مصطفیٰ رمدے اس وقت میرے ساتھ کمرے میں موجود ہیں، میرے کمرے میں بانی پی ٹی آئی کا کوئی وکیل یا نمائندہ موجود نہیں۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل میاں محمد حسین نے وزیر اعظم شہباز شریف پر جرح کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا آپ دعوے پر اوتھ کمشنر کی تصدیق کی نشاندہی کر سکتے ہیں؟
اس پر انہوں نے جواب دیا کہ تصدیق موجود ہے، تفصیلات تکنیکی بات ہے جس کا مجھے علم نہیں، میں نے بیان حلفی داخل کرنے سے قبل عدالت میں دعوے کی حمایت میں کوئی تائیدی بیان ریکارڈ نہیں کروایا تھا، میں دعوے کی تائید میں کوئی زبانی بیان ریکارڈ نہیں کروانا چاہتا۔
اس پر شہباز شریف کے وکیل نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے وکیل غیر ضروری سوال پوچھ رہے ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ میں عوام کا خادم ہوں، اس لئے پیراگراف نمبر 1 میں لفظ پبلک سروس استعمال کیا ہے،یہ غلط ہے کہ میرے بیان حلفی کا ہر لفظ غلط ہے،یہ بھی غلط ہے کہ بیان حلفی جھوٹا ہے، یہ بھی غلط ہے کہ میرے بیان حلفی میں بانی پی ٹی آئی پر لگائے گئے الزامات جھوٹے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ غلط ہے کہ میرا بیان حلفی قانون تحت کسی بھی شہادت کی تعریف میں نہیں آتا، مجھے یاد نہیں ہے کہ 20 اپریل 2017 کو پانامہ کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ سے ہوا تھا، یہ غلط ہے کہ میں نے بانی پی ٹی آئی کیخلاف دعوی سپریم کورٹ سے پانامہ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد دائر کیا۔