قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف فتویٰ کیس ، عدالت نے مولانا طاہر سیفی کو 32 سال قید کی سزا سنا دی

قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف فتویٰ کیس ، عدالت نے مولانا طاہر سیفی کو 32 سال قید کی سزا سنا دی
کیپشن: قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف فتویٰ کیس ، عدالت نے مولانا طاہر سیفی کو 32 سال قید کی سزا سنا دی

ویب ڈیسک: سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف فتویٰ جاری کرنے کے مقدمات میں انسدادِ دہشت گردی عدالت نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے دو مجرموں کو مجموعی طور پر 68 سال قید اور لاکھوں روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔

انسدادِ دہشت گردی عدالت لاہور کے جج شاہد سکندر نے سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ سنایا۔ عدالت نے کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) سے وابستہ مولانا طاہر سیفی کو مجموعی طور پر 32 سال قید اور 7 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ ان کے خلاف شیخوپورہ کے تھانہ اے ڈویژن میں اشتعال انگیز تقریر اور فتویٰ دینے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج تھا۔ عدالت نے ملزم ریاض کو 36 سال قید اور ساڑے چھ لاکھ جرمانہ عائد کیا۔ ملزم ریاض کیخلاف تھانہ چھانگا مانگا قصور میں مقدمہ درج ہوا تھا۔

عدالت نے ملزمان کو سزا کے بعد جیل منتقل کرنے کا حکم دیا۔ مولانا طاہر سیلفی کی جانب سے رانا مقصود الحق ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ پراسکیوشن نے ملزمان کیخلاف دو مقدمات کے چالان جمع کرا رکھے تھے۔

واضح ہے کہ ملزم ریاض نے قاضی فائز عیسیٰ کے قتل پر عوام کو اکسایا۔ ملزم ریاض نے قتل پر اکساتے ہوئے 20 کلو دیسی گھی کے انعام کا اعلان کیا تھا۔

Watch Live Public News