ویب ڈیسک: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز ( پی آئی اے) کے ریٹائرڈ ملازمین کے لیے طبی سہولیات کا پرانا نظام بحال کر دیا گیا ہے، جس سے ہزاروں سابق ملازمین کو ریلیف ملے گا۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کی عدالت نے ریٹائرڈ ملازمین کی طبی سہولیات سے متعلق دائر درخواستوں پر اہم فیصلہ سناتے ہوئے پی آئی اے انتظامیہ کے حالیہ احکامات کو کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ ملازمین کے لیے طبی سہولیات کا سابقہ نظام فوری طور پر بحال کیا جائے۔
یہ درخواست ایئر لیگ کے صدر شمیم اکمل اور دیگر کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ نئے انشورنس معاہدے کے تحت ریٹائرڈ ملازمین کو مخصوص اسپتالوں اور محدود ادویات تک محدود کر دیا گیا تھا، جبکہ نان پینل سروسز کے اخراجات کی ادائیگی بھی ختم کر دی گئی تھی، جس سے بزرگ ملازمین کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ پی آئی اے کے ‘پرسنل پالیسی مینوئل’ کے تحت ریٹائرڈ ملازمین او پی ڈی اور ماہر ڈاکٹروں کے اخراجات کے حقدار ہیں، جبکہ نیا معاہدہ ‘ پی آئی اے کارپوریشن ایکٹ’ کے منافی ہے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواستوں کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے انتظامیہ کی جانب سے نافذ کردہ پابندیوں اور نئے انشورنس نظام کو غیر قانونی قرار دیا، اور پرانی پالیسی کے تحت تمام طبی سہولیات بحال کرنے کا حکم جاری کیا۔
اس فیصلے کو ریٹائرڈ ملازمین کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو طویل عرصے سے بہتر علاج و معالجے کی سہولیات کے لیے کوششیں کر رہے تھے۔