ویب ڈیسک: اسرائیلی بحریہ کی جانب سے گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملے اور کارکنوں کو حراست میں لینے کے بعد فلوٹیلا کی قیادت نے دنیا بھر کے فلسطین حامیوں کو احتجاج کی کال دے دی ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں فلوٹیلا کے منتظمین نے کہا کہ "ہمارے قافلے پر اسرائیل کے حملے شروع ہو چکے ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا بھر کے عوام ردعمل دیں اور اسرائیل کو عالمی دباؤ کا سامنا کرنا پڑے۔"
It’s time to shut it down for a FREE PALESTINE.
— Global Sumud Flotilla (@gbsumudflotilla) October 1, 2025
The Israeli attack on the Global Sumud Flotilla has begun. The time to respond is NOW.
Hit the streets: shut down embassies, parliaments and corporations complicit in manufacturing in the genocide.#Int… https://t.co/42RcJiP4G5
فلوٹیلا کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ سفارتخانوں اور پارلیمان کے سامنے احتجاجی مظاہرے کیے جائیں تاکہ عالمی برادری پر فلسطین کے حق میں دباؤ بڑھایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کمپنیوں کے دفاتر کے باہر بھی مظاہرے کرنے کی اپیل کی گئی ہے جو مبینہ طور پر اسرائیل کی جانب سے فلسطینی عوام کی نسل کشی میں اس کے ساتھ شریک ہیں۔
احتجاج کی اس کال کے بعد دنیا کے کئی ممالک میں ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ یونان میں فلسطین حامیوں نے فوری طور پر احتجاجی ریلیاں نکالیں، جبکہ اٹلی اور ترکیہ میں بھی عوام بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔ روم میں شہریوں نے امدادی کشتیوں پر اسرائیلی حملے کے خلاف نعرے بازی کی اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر فلسطینی عوام کے حق میں نعرے درج تھے۔ استنبول میں بھی عوام نے اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے احتجاجی مارچ کیا۔

یاد رہے کہ اسرائیلی بحریہ نے گزشتہ روز گلوبل صمود فلوٹیلا کی کئی کشتیوں پر دھاوا بول کر انہیں تحویل میں لے لیا تھا۔ ان کشتیوں میں موجود کارکنان کو حراست میں لے کر اسرائیلی پورٹ منتقل کیا گیا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق تمام کارکن محفوظ ہیں اور انہیں اسرائیل پہنچنے کے بعد ملک بدر کر دیا جائے گا۔
فلوٹیلا کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد محصور غزہ کے عوام تک انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد پہنچانا ہے اور اسرائیلی رکاوٹوں اور دباؤ کے باوجود ان کا مشن ختم نہیں ہوگا۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی قوانین اور انسانی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔