ویب ڈیسک: یکم اکتوبر 2025 سے اب تک اسرائیلی فورسز نے غزہ جانے والے امدادی بیڑے "صمود فلوٹیلا" پر کارروائی کرتے ہوئے 223 غیر ملکی کارکنان کو حراست میں لے لیا ہے۔ یہ کارکنان مختلف ممالک سے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور محصور غزہ کے لیے امداد لے کر روانہ ہوئے تھے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فورسز نے غیر قانونی طور پر 20 سے زائد مرتبہ فلوٹیلا کے جہازوں کو روکا اور کارکنان کو گرفتار کیا۔ تاہم اس تمام دباؤ اور رکاوٹوں کے باوجود ایک جہاز — میکینو — اسرائیلی ناکہ بندی توڑنے میں کامیاب ہوگیا اور بالآخر فلسطینی پانیوں میں داخل ہو گیا۔
Mikeno ship successfully broke through the Israeli blockade and entered Gaza's territorial waters!!#GlobalSumudFlotilla pic.twitter.com/TBQw00eO3l
— Global Sumud Flotilla (@GlobalSumud) October 2, 2025
رپورٹ میں بتایا گیا کہ "صمود فلوٹیلا" کا مقصد غزہ کی ناکہ بندی کے خلاف عالمی توجہ مبذول کرانا اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر محصور شہریوں تک امداد پہنچانا ہے۔ اس قافلے میں شامل کارکنان میں انسانی حقوق کے کارکن، صحافی اور مختلف ممالک کے سماجی رہنما شامل تھے۔
بین الاقوامی برادری نے اسرائیلی کارروائیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کی ناکہ بندی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے اور عالمی قوانین کے منافی ہے۔ فلوٹیلا کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور دنیا کو غزہ میں جاری انسانی بحران سے آگاہ کرتے رہیں گے۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے کئی برسوں سے غزہ پر زمینی، فضائی اور سمندری ناکہ بندی کر رکھی ہے جس کے باعث لاکھوں فلسطینی شہری بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔