ویب ڈیسک: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں 26 نومبراحتجاج کے دوران قتل عام کے الزام میں نئی پیشرفت سامنے آگئی ہے۔ جہاں پی ٹی آئی اپنے الزامات سے راہ فرار تلاش کرنے لگی ہے۔
تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی نے 26 نومبر کو قتل عام کا الزام عائد کیا تھا۔ پی ٹی آئی نے مبینہ جاں بحق اور زخمی کارکنان کیلئے پرائیویٹ کمپلین دائر کی تھی۔ پی ٹی آئی عدالت میں دائر درخواست میں 10 سے زائد دفعہ التواء مانگ چکی ہے۔
پی ٹی آئی کیجانب سے التواء مانگنے پر 8 سے زائد تاریخیں بغیر کارروائی ملتوی ہوچکی ہیں۔ 10 ماہ کے لگ بھگ کا وقت گزر چکا لیکن بیرسٹر گوہر ابتدائی بیان ہی ریکارڈ نہ کروا سکے۔
بیرسٹر گوہر کے ابتدائی بیان ریکارڈ کروانے کے بغیر درخواست پر کارروائی آگے نہیں بڑھ سکتی۔ پی ٹی آئی نے 10 سے زائد تاریخوں کے دوران، ڈیتھ سرٹیفکیٹ، میڈیکل سرٹیفکیٹ، وکلاء کی مصروفیات کے باعث التواء مانگا۔
پی ٹی آئی کارکن کی اس سے قبل 26 نومبر واقعات پر اندراج مقدمہ کی درخواست خارج ہوچکی ہے۔ پی ٹی آئی کی کے پی کے ہاؤس پر مبینہ چھاپے کی درخواست بھی خارج ہوچکی ہے۔