ویب ڈیسک: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ صوبے میں سفارش اور دھاندلی کا خاتمہ کر دیا گیا ہے، آج تعلیمی اداروں میں نہ پوزیشنیں بکتی ہیں اور نہ ہی میرٹ کی پامالی ہوتی ہے۔
یونیورسٹی آف ہوم اکنامکس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ جس ملک میں اتنے ٹاپر طلبہ ہوں وہ کبھی زوال کا شکار نہیں ہو سکتا۔ بچوں نے اپنی محنت سے پنجاب اور پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ اور سرکاری اسکولوں کے معیار تعلیم میں بہت فرق آچکا ہے لیکن میرا عزم ہے کہ یہ فرق ختم کر کے دونوں نظام کو ایک جیسا معیاری بنایا جائے۔ "آج کل ٹیکنالوجی کا دور ہے، صرف کتاب اور پینسل سے گزارہ ممکن نہیں۔ پنجاب میں 80 ہزار بچے اسکالرشپ پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔"
وزیراعلیٰ پنجاب نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "مجھے فخر ہے کہ پنجاب کی بیٹیاں بیٹوں سے بڑھ کر پرفارم کر رہی ہیں۔ یہاں تک کہ ایک مسلمان بچے کو ٹاپ پوزیشن دلانے والا استاد اقلیتی برادری سے تعلق رکھتا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں سب کو برابر کے مواقع حاصل ہیں۔"
مریم نواز نے مزید کہا کہ کسی بھی سرکاری افسر کے تقرر کے لیے پینل کا انٹرویو وہ خود کرتی ہیں، اگر امیدوار میرٹ پر پورا نہ اترے تو پورا پینل واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ "آج تک میں نے کسی سفارشی یا من پسند شخص کو عہدہ نہیں دیا۔"
انہوں نے کہا کہ اب ٹھیکے بھی دوستوں یا سفارش پر نہیں دیے جاتے۔ "پہلے ہوتا تھا کہ یہ میرا دوست ہے، اسے ٹھیکہ دے دو، لیکن وہ تمام ٹھیکے منسوخ کر دیے گئے۔"
وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ سرکاری اسکولوں کو پرائیویٹ اداروں سے زیادہ معیاری بنانا میرا مقصد ہے اور نوجوانوں پر ہی میری اصل توجہ مرکوز ہے۔ "میرٹ کی بنیاد پر راستے کھول رہی ہوں تاکہ آئندہ نسل کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔"