وزیراعظم شہباز شریف کا بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 7روپے41پیسےکمی کااعلان

وزیراعظم شہباز شریف کا بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 7روپے41پیسےکمی کااعلان
کیپشن: وزیراعظم شہباز شریف کا بجلی کی فی یونٹ قیمت میں روپےکمی کااعلان

ویب ڈیسک: وزیراعظم شہباز شریف نے بجلی کی قیمتوں میں7 روپے41پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کردیا۔ صنعتی صارفین کیلئے بجلی 7 روپے 59 پیسے فی یونٹ سستی کر دی۔

بجلی کے نرخوں میں کمی کے حکومتی پیکیج کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جون 2024 میں گھریلو صارفین کیلئے بجلی کی قیمت 48 روپے 70 پیسے تھی وہ اس وقت 45 روپے 5 پیسے فی یونٹ ہے، آج گھریلو صارفین کیلئے مزید 7 روپے 41 پیسے فی یونٹ کمی کر رہے ہیں، گھریلو صارفین کو 34 روپے 37 پیسے فی یونٹ بجلی ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ صنعتوں کیلئے بجلی کی قیمت فی یونٹ 58 روپے 50 پیسے تھی، سب کی کاوشوں سے وہ قیمت 48 روپے 19پیسے ہوچکی ہے، آج اس میں مزید 7 روپے 59 پیسے کمی کا اعلان کر رہا ہوں، جس کے بعد صنعتی صارفین کیلئے فی یونٹ 40 روپے 60 پیسے ہوگیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سالانہ 600 ارب روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے، بجلی کی چوری روک لی تو مزید سستی کریں گے، ڈسکوز کو فوری طور پر پرائیوٹائز کریں گے، اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف  بجلی کے نرخوں میں کمی کے حکومتی پیکج کے حوالے سےمنعقدہ تقریب میں شرکت کی۔ تقریب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار،حکومتی وزراء اور اہم شخصیات نے بھی شرکت کی۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ جولوگ یہاں اکٹھے ہوئے میں ان کا شکرگزار ہوں۔ جنہوں نے یہاں پورے پاکستان کی نمائندگی کی۔منشور میں جو وعدہ کیا تھا وہ آج پورا ہونے جارہا ہے۔کہا تھا اللہ نے موقع دیا تو ملک معاشی ترقی کی منازل طے کرےگا۔ملکی معیشت اب اندھیروں کی بجائےاجالوں کی جانب آچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معاشی استحکام اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے ادنیٰ سی خوشخبری سنانے آیا ہوں۔ بجلی کی قیمت میں کمی نہیں آئے گی تو ہماری ایکسپورٹ کام نہیں کرسکتی۔ بجلی کی قیمتوں کے حوالے سے بات کرنے سے قبل کچھ ماضی کی گزارشات کرنا چاہوں گا۔ کہ پرخطر چیلنجز کا سامنا کیسے کیا؟ہم نے ریاست کیلئے اپنی سیاست کو قربان کیا۔ لیکن مخصوص ٹولے نے اپنی سیاست کیلئے ریاست کو قربان کیا۔

حکومت سنبھالی کو پاکستان کے سر پر ڈیفالٹ ہونے کی تلوار لٹک رہی تھی اور کاروباری حضرات بجا طور پر خوفزدہ تھے۔ حالات کس کروٹ بیٹھیں گے اس حوالے سے عدم استحکام عروج پر تھا۔ بجلی کے کارخانے چلانے کیلئے پیسے نہیں ہوتے تھے۔ ایک وقت تھا آئی ایم ایف بات سننے کیلئے تیار نہیں تھا۔ پاکستان کو ڈیفالٹ کے دہانے پر لانے والے اور افراتفری کا شکار کرنے والے خوشی سے مرے جارہے تھے کیونکہ ان کو یہ پختہ یقین تھا کہ اب پاکستان کو ڈیفالٹ سے نہیں بچایا جاسکتا۔یہ وہی ٹولہ ہے جس نے آئی ایم ایف سے کیے معاہدے کو توڑا۔سب جانتے ہیں کہ کون سے وزرائے خزانہ نے آئی ایم ایف کو خط لکھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کمال مہربانی ہے کہ پاکستان دیوالیہ ہونے سے بچ گیا۔ مالک حقیقی نے دن رات کی محنت سن لی۔ جس میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا بھی کلیدی کردار رہا۔ معاشی استحکام کے سفر میں آرمی چیف کا کردار رہا۔ جدوجہد میں آرمی چیف اور ان کے رفقاء کا بھرپور تعاون حاصل رہا۔ملکی معیشت اب اندھیروں کی بجائے اجالوں کی طرف آچکی ہے۔

نجکاری اور رائٹ سائزنگ مختلف فیصلوں کی ایک کڑی ہے۔ملک میں مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجیٹ پر آچکی ہے۔حکومت میں قوم کا وقت ضائع کرنے والوں کیلئے کوئی جگہ نہیں۔ پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہوکر 12 فیصد پر آگئی۔ 

ملک میں پیٹرول کی قیمتیں خطے کے دیگر ممالک میں آج بھی سب سے کم ہیں۔ایک سال میں پیٹرول کی قیمت میں 38 روپے تک کمی کی گئی۔آئی ایم ایف کے ہوتے ہوئے سبسڈی نہیں دی جاسکتی۔ عظیم پاکستانیوں نے گورننس کا نظام بہتر کرنے کیلئے کلیدی کردار ادا کیا۔

Watch Live Public News