سڈنی: فلسطین کے حق میں بڑا احتجاج، ہاربر برج پر عوام کا  سمندر  ، ویڈیو وائرل

 سڈنی: فلسطین کے حق میں بڑا احتجاج، ہاربر برج پر عوام کا  سمندر  ، ویڈیو وائرل

(ویب ڈیسک )   سڈنی ہاربر برج پر فلسطین کے حق میں ایک بہت بڑا احتجاج  شدید بارش کے باوجود منعقد ہوا۔اس احتجاج کو  ایک روز قبل سپریم کورٹ کی جانب سے منظوری دی گئی تھی۔منتظمین کی جانب سے  اسے ایک "تاریخی" فیصلہ قرار دیا گیا ہے۔

"مارچ فار ہیومینیٹی" میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، جن میں سے کئی نے سیاسی رہنماؤں سے جنگ روکنے کے مطالبے والے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔وکی لیکس کے بانی جولیان اسانج بھی مظاہرین میں نظر آئے، جب کہ دیگر نمایاں شرکاء میں وفاقی رکن پارلیمنٹ ایڈ ہوسیچ اور باب کار شامل تھے۔

مظاہرین نے نعرے لگائے: "شرم کرو  شرم کرو اسرائیل، شرم کرو  شرم کرو امریکہ"، "ہمیں کیا چاہیے؟ جنگ بندی، کب چاہیے؟ ابھی۔"

پُرامن مظاہرے میں خاندانوں کی بڑی تعداد، حتیٰ کہ چھوٹے بچوں کے ساتھ، بھی شریک تھی۔ ان کے ساتھ ساتھ پل پر پولیس اور رائٹ اسکواڈ اہلکار بھی تعینات تھے۔

ایلیک بیول نامی ایک والد نے کہا: "مجھے معلوم ہے کہ یہ دنیا کے دوسرے کونے کا مسئلہ ہے، لیکن اس کا یہاں بھی بڑا اثر ہے۔" اس نے غزہ کے بچوں کو اپنے تین سالہ بیٹے فرینکی سے تشبیہ دی۔ "ہم امداد کے ذریعے بہت زیادہ مدد کر سکتے ہیں۔"

زرا ولیمز، جو اپنی بیٹی ایوری کو اسلنگ میں اٹھائے تھیں، نے کہا: "ہماری حکومت نے اسرائیل پر کوئی قابل ذکر پابندی نہیں لگائی۔ ہم کچھ نہ کرنا برداشت نہیں کر سکتے جب کہ پوری آبادی کو بھوکا مارا جا رہا ہو۔"

دو گھنٹے بعد، شرکاء کو نیو ساوتھ ویلز پولیس کی جانب سے ایک ایس ایم ایس موصول ہوا جس میں کہا گیا: "منتظمین سے مشاورت کے بعد مارچ کو عوامی تحفظ کے پیش نظر روک دیا گیا ہے، مزید ہدایات کا انتظار کریں۔"

اس میں لوگوں سے کہا گیا کہ وہ شمال کی طرف چلنا بند کریں اور منظم انداز میں واپس شہر کی طرف لوٹ جائیں۔

پولیس نے تاحال مارچ میں شریک افراد کی تعداد کا تخمینہ جاری نہیں کیا ہے۔

ٹرانسپورٹ فار این ایس ڈبلیو نے موٹر سائیکل سواروں اور ڈرائیورز کو ہدایت کی کہ وہ شہر سے گریز کریں، کیونکہ احتجاج کے باعث سڈنی کی سڑکوں اور عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام میں بڑے پیمانے پر تاخیر اور رکاوٹیں متوقع ہیں۔

سڈنی میں قائم کارکنوں کی تنظیم " فلسطین ایکشن گروپ" نے گزشتہ اتوار کو سڈنی ہاربر برج پر مارچ کے ارادے کا نوٹس جمع کرایا تھا، جس کا مقصد غزہ میں جاری "مظالم" کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔

تاہم پولیس نے یہ درخواست مسترد کر دی، ان کا کہنا تھا کہ ٹریفک مینجمنٹ پلان تیار کرنے کے لیے وقت ناکافی ہے، اور انہوں نے ہجوم کے دباؤ اور دیگر حفاظتی خدشات کا اظہار کیا۔

پولیس نے مارچ کی ممانعت کے لیے این ایس ڈبلیو سپریم کورٹ سے رجوع کیا، لیکن احتجاج سے صرف 24 گھنٹے قبل عدالت نے اس درخواست کو مسترد کر دیا۔

آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے مطابق، جسٹس بیلنڈا رِگ نے کہا کہ مارچ کے حوالے سے حفاظتی خدشات "درست" ہیں، لیکن مارچ کے منتظم جوش لیز نے غزہ کی انسانی صورت حال کے فوری ردعمل کے لیے "موثر دلائل" پیش کیے۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ مارچ پر پابندی سے عوامی تحفظ میں اضافہ ہوگا۔ لہٰذا، انہوں نے ہاربر برج کو گاڑیوں کے لیے بند کرنے اور مجوزہ راستے کے اردگرد کی سڑکیں بھی بند کرنے کا حکم دیا۔

آخری لمحے میں احتجاج کی اجازت ملنے کے بعد شرکاء کو "سمری آفینسز ایکٹ" کے تحت تحفظ حاصل ہو گیا، یعنی وہ عوامی اجتماع سے متعلق جرائم، جیسے سڑک بلاک کرنا، کے تحت مقدمات کا سامنا نہیں کریں گے۔

دوسری جانب نیو ساوتھ ویلز کی یہودی بورڈ آف ڈیپوٹیز نے انسٹاگرام پر ایک بیان میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر "مایوسی" کا اظہار کیا۔

خیال رہے کہ آسٹریلیا پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر اس کے بعد جب فرانس، کینیڈا اور برطانیہ نے الگ الگ اشارہ دیا ہے کہ وہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مخصوص شرائط کے ساتھ اس فیصلے کی حمایت کریں گے۔

اے بی سی کے پروگرام "7.30" میں گفتگو کرتے ہوئے آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سے قبل ایسی شرائط کا پورا ہونا چاہتے ہیں جو اسرائیل کے لیے پائیدار سلامتی کو یقینی بنائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ دوسرے ممالک کے دباؤ میں آ کر کوئی فیصلہ نہیں کریں گے۔

Watch Live Public News