سوئٹزرلینڈکے اسکی ریزورٹ میں لگنے والی ہولناک آگ کی مبینہ وجہ سامنے آگئی

سوئٹزرلینڈکے اسکی ریزورٹ میں لگنے والی ہولناک آگ کی مبینہ وجہ سامنے آگئی
کیپشن: سوئٹزرلینڈکے اسکی ریزورٹ میں لگنے والی ہولناک آگ کی مبینہ وجہ سامنے آگئی

ویب ڈیسک: سوئٹزرلینڈ کے معروف اسکی ریزورٹ کرانس مونٹانا میں نئے سال کی شب ایک بار میں لگنے والی ہولناک آگ نے خوشیوں کو المیے میں بدل دیا۔ لی کانسٹیلیشن نامی بار میں آتشزدگی کے نتیجے میں کم از کم 40 افراد ہلاک جبکہ 119 زخمی ہو گئے، جن میں بڑی تعداد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ زخمیوں میں زیادہ تر نوجوان شامل ہیں جو نئے سال کا جشن منانے کے لیے وہاں موجود تھے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سوئس حکام کا کہنا ہے کہ آگ اس قدر شدید تھی کہ کئی زخمیوں کو شدید جھلسنے کے باعث یورپ کے مختلف ممالک کے خصوصی برن یونٹس منتقل کرنا پڑا۔ والیس کینٹن کے سربراہ میتھیاس رینارڈ نے میڈیا کو بتایا کہ تقریباً 50 زخمیوں کو جرمنی اور فرانس سمیت دیگر ممالک کے اسپتالوں میں منتقل کیا جا چکا ہے یا جلد منتقل کیا جائے گا، جبکہ متعدد افراد تاحال زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ آگ ممکنہ طور پر جشن کے دوران استعمال کی جانے والی اسپارکلرز یا فاؤنٹین کینڈلز کے باعث لگی، جو شیمپین کی بوتلوں کے ساتھ جلائی جا رہی تھیں۔ مقامی پراسیکیوٹر بیٹریس پیلود کے مطابق یہ جلتی ہوئی اشیا چھت کے انتہائی قریب لے جائی گئیں، جس کے بعد آگ نے تیزی سے پورے بار کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مفروضہ مضبوط ہے تاہم حتمی تصدیق تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہو سکے گی۔ تحقیقات میں اس پہلو کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا چھت میں استعمال ہونے والا انسولیشن فوم آگ کے تیزی سے پھیلنے کا سبب بنا۔

حکام کے مطابق آگ کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کئی لاشیں اس قدر جھلس چکی ہیں کہ ان کی شناخت کے عمل میں وقت لگ رہا ہے۔ پولیس چیف فریڈرک گسلر نے بتایا کہ اب تک 113 زخمیوں کی شناخت ہو چکی ہے، جن میں اکثریت سوئس شہریوں کی ہے، تاہم فرانس، اٹلی، سربیا، بوسنیا، بیلجیم، پولینڈ، پرتگال اور لکسمبرگ کے شہری بھی زخمیوں میں شامل ہیں۔

عینی شاہدین کے بیانات انتہائی دل دہلا دینے والے ہیں۔ ایک نوجوان ایکسل نے بتایا کہ وہ اس وقت تہہ خانے میں موجود تھا جہاں آگ بھڑکی۔ اس کے مطابق دھواں اس قدر شدید تھا کہ کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا اور سانس لینا دشوار ہو گیا تھا۔ اس نے اپنی جان بچانے کے لیے ایک میز کے پیچھے پناہ لی اور بعد ازاں کھڑکی توڑ کر باہر نکلنے میں کامیاب ہوا۔ اس کا کہنا تھا کہ باہر نکلنے کے لیے صرف ایک دروازہ تھا جو اتنے زیادہ لوگوں کے لیے ناکافی ثابت ہوا۔

ہلاک ہونے والوں میں سب سے پہلے ایک 16 سالہ اطالوی نوجوان کی شناخت ہوئی جو بین الاقوامی گالفر تھا اور دبئی میں مقیم تھا۔ اطالوی گالف فیڈریشن نے اس کی موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک باصلاحیت کھلاڑی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کا حامل نوجوان تھا۔

حادثے کے بعد لاپتہ افراد کے اہل خانہ اور دوست شدید ذہنی صدمے میں مبتلا ہیں۔ اطالوی وزیر خارجہ انتونیو تاجانی کے مطابق 13 اطالوی شہری اسپتال میں زیر علاج ہیں جبکہ چھ تاحال لاپتہ ہیں۔ فرانسیسی سفارت خانے نے بتایا کہ آٹھ فرانسیسی شہریوں کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل سکا جبکہ نو زخمی ہیں۔

بار کے باہر ایک عارضی یادگاری مقام قائم کر دیا گیا ہے جہاں لوگ پھول رکھ رہے ہیں اور موم بتیاں جلا کر جاں بحق افراد کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ کئی نوجوانوں نے میڈیا کو بتایا کہ وہ بھی اس بار جانے کا ارادہ رکھتے تھے مگر کسی وجہ سے نہ جا سکے، اور اب اس سانحے پر شدید صدمے میں ہیں۔

یہ افسوسناک واقعہ سوئٹزرلینڈ کی حالیہ تاریخ کے بدترین حادثات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مکمل تحقیقات کے بعد یہ تعین کیا جائے گا کہ آیا کسی کی غفلت اس سانحے کا سبب بنی اور آیا کسی کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ فی الحال ملک سوگ میں ڈوبا ہوا ہے اور یورپ بھر میں اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

Watch Live Public News