ویب ڈیسک: معرکہ حق میں بھارتی فضائیہ کو چاروں شانے چت کرنے کے بعد پاکستانی شاہینوں نے دلچسپ شکایت کردی۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان ایئر فورس کے سابق سربراہ ایئر چیف (ر) سہیل امان نے سنوبر انسٹی ٹیوٹ کے زیرِ اہتمام منعقدہ راؤنڈ ٹیبل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ " آپریشن بنیان المرصوص" کے بعد پاکستانی پائلٹس کی جانب سے صرف ایک ہی شکایت سامنے آئی کہ بھارتی فضائیہ نے جنگ میں اتنا سخت وقت نہیں دیا جتنا انہیں تربیتی مشقوں کے دوران دیا گیا تھا۔
"...The only complaint the boys (PAF pilots) had was that you gave us a much tougher time in (training) exercises than the Indians did in actual combat..."
— Kaz ???????? (@kozamli) July 2, 2025
- Former Air Chief Sohail Aman speaking at Sanober Institutes Roundtable on Operation Bunyanum Marsoos. pic.twitter.com/L9mbvp1zia
ایئر چیف (ر) سہیل امان کا کہنا تھا کہ تربیت اور تیاری کی اہمیت میدانِ جنگ میں بخوبی عیاں ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جے-10، رافیل، میٹیور یا پی ایل-15 جیسے جدید طیاروں اور میزائلوں کے درمیان تکنیکی فرق ضرور ہے، لیکن اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ان ہتھیاروں کو کس مہارت سے استعمال کیا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل کی جنگوں میں کامیابی کے لیے مختلف عسکری اثاثوں کا مؤثر انضمام اور اعلیٰ درجے کی تربیت فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔ خوش قسمتی سے، ان کے بقول بھارت نے اس سمت میں وہ تیاری نہیں کی جو درکار تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ "رافیل ایک طاقتور جہاز ضرور ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ اسے کیسے اور کون استعمال کرتا ہے؟"
ایئر چیف (ر) سہیل امان کے اس بیان کو عسکری ماہرین پاکستانی فضائیہ کی پیشہ ورانہ تیاری اور اعتماد کا عکاس قرار دے رہے ہیں۔