کرپشن الزامات پرعدم اعتماد: منگولین وزیراعظم مستعفی

کرپشن الزامات پرعدم اعتماد: منگولین وزیراعظم مستعفی
کیپشن: کرپشن الزامات پرعدم اعتماد: منگولین وزیراعظم مستعفی

ویب ڈیسک: منگولیا کے وزیرِ اعظم لووساننامسرین اویون اردینی پارلیمنٹ میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک میں کرپشن الزامات کے خلاف عوامی مظاہروں کا سلسلہ کئی روز سے جاری تھا، جس میں خاص طور پر سوشل میڈیا پر ان کے بیٹے کی پرتعیش سالگرہ اور منگنی کی تقریبات پر تنقید کی جا رہی تھی۔

پارلیمنٹ میں شکست

126 نشستوں پر مشتمل پارلیمنٹ میں وزیرِ اعظم کو اکثریت کے لیے کم از کم 64 ووٹ درکار تھے، مگر خفیہ رائے شماری میں صرف 44 ارکان نے ان کی حمایت کی، جبکہ 38 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ یوں وہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

اویون اردینی، جو 2021 سے وزیرِ اعظم کے منصب پر فائز تھے، نے کہا کہ"یہ میرے لیے اعزاز کی بات تھی کہ میں نے اپنے ملک اور عوام کی خدمت کی، خصوصاً وبا، جنگوں اور معاشی دباؤ کے دور میں۔"
وہ اگلے 30 دن تک نگران وزیرِ اعظم کی حیثیت سے خدمات انجام دیں گے، جب تک کوئی نیا سربراہ حکومت مقرر نہیں ہوتا۔

سوشل میڈیا پر عوامی دباؤ

ملک بھر میں سینکڑوں مظاہرین، جن میں زیادہ تر نوجوان شامل تھے، دو ہفتوں سے سڑکوں پر تھے اور وزیرِ اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

احتجاج کی وجہ ان کے بیٹے کی پرتعیش طرزِ زندگی، مہنگے فیشن آئٹمز اور ایک عمدہ شادی کی پیشکش سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹس بنیں، جن پر عوام نے دولت کے ذرائع پر سوالات اٹھائے۔

اویون اردینی نے کرپشن کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں ایک منفی مہم قرار دیا۔

شفافیت میں گراوٹ، مغرب سے قربت کی کوشش

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق، اویون اردینی کے دور میں منگولیا میں شفافیت کی درجہ بندی مزید خراب ہوئی، اور ملک 180 ممالک میں 114ویں نمبر پر آ گیا۔

کرپشن منگولیا کے لیے ایک دیرینہ مسئلہ رہا ہے۔ گزشتہ سال امریکی حکام نے سابق وزیرِ اعظم سخباتار باتبولد کے نیویارک میں موجود دو اپارٹمنٹس کو چوری شدہ مائننگ فنڈز سے خریدنے کے شبہے میں ضبط کرنے کی کارروائی شروع کی تھی، تاہم انہوں نے الزامات کی تردید کی۔

بین الاقوامی تناظر

چین اور روس کے درمیان واقع سابق کمیونسٹ ریاست منگولیا نے 1990 کی دہائی میں جمہوریت کی راہ اپنائی۔ حالیہ برسوں میں اس نے "تیسرا پڑوسی" پالیسی کے تحت امریکہ اور یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات کو فروغ دیا۔

Watch Live Public News